24 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ تبلیغی بھائیوں سے اکثر یہ سنتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعوت کا کام کرنے والوں کا خشر میرے ساتھ ہوگا۔ جب حوالہ پوچھتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ حاجی عبد الوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرما رہے تھے کہ دعوت کا کام کرنے والوں کا خشر انبیاء کرام کے ساتھ ہوگا تو بیان کے بعد مفتی زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ نے پوچھا کہ یہ بات آپ نے کس حدیث کی کتاب میں دیکھی ہے تو حاجی صاحب نے کہا کہ اس بات کو پھر نہیں کہوں گا لیکن اپکوحوالہ مل جائے گا۔ رات کو خواب میں مفتی صاحب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیب ہوا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دعوت کا کام کرنے والوں کا خشر انبیاء کے ساتھ نہیں بلکہ میرے ساتھ ہوگا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ تبلیغی بھائیوں کا یہ حوالہ درست ہے اور ہم اسکو اسی طرح آگے بیان کر سکتے ہیں۔ جزاک اللہ خیرا
asked May 15 in حدیث و سنت by Asif imran
reshown Jun 2 by Darul Ifta

1 Answer

Ref. No. 1845/43-1664

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کس کا حشر کس کے ساتھ ہوگا، یہ قیاسی چیز نہیں ہے، بلکہ ان  کا تعلق نص سےہے، اس لئے نص سے جن لوگوں کا حشر انبیاء کے ساتھ ہونا ثابت ہے، ہم اس پر یقین رکھیں، اور جن کے بارے میں نص خاموش ہے ہم بھی ان کے بارے میں کوئی حتمی بات نہ کریں۔ نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ کسی  کا  خواب حجت شرعیہ نہیں ہے۔ اس لئےکسی کے خواب سے بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتاہے۔ اس سلسلہ میں سکوت اختیار کرکے دعوت کے  کام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ تبلیغ دین ایک فضیلت والا عمل ہے۔ اللہ تعالی  بہترین اجر دینے والے ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jun 2 by Darul Ifta
...