16 views
میرا سوال یہ ہے اردو میں جس کو زائچہ کہا جاتا ہے،ہندی میں جس کو  رَاشِیْ فَلْ کہا جاتا ہے،انگلش میں جس کو Horoscope کہا جاتا ہے، یہ  چیزیں جاننا، یا کسی کو بتانا، شرک اندر داخل ہے یا نہیں؟  شریعت کے اندر اس کا کیا حکم ہے، قرآن و حدیث کی روشنی میں تفصیل سے بتائے،
جزاکم اللہ
asked May 16 in اسلامی عقائد by anonymous
reshown Jun 2 by Darul Ifta

1 Answer

Ref. No. 1844/43-1663

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ زمانہ آئندہ میں ہونے والے واقعہ کی یقینی طور پر کسی کو خبر نہیں ہے، یہ مغیبات الہیہ ہیں جن کا صحیح  علم صرف اور صرف اللہ تعالی کو ہے۔  زمانہ آئندہ میں کسی چیز کے متعلق خیر یا شر کی بات معلوم کرنا  یا بتانا  بھی شرکیہ عمل ہے،  یہ سخت گناہ کبیرہ ہے، اس لئے ان امور سے اجتناب لازم ہے۔  البتہ اللہ تعالی نے دنیا کا ایک نظام مقرر کیا ہے، اس مقرر کردہ نظام کے تحت کسی یقینی علامت کو دیکھ کر آئندہ زمانہ میں ہونے والی بات  کی خبردینا شرک یا غیب کا علم نہیں کہلائےگا، جیسے کہ کل صبح کا سورج اتنے بج کر اتنے منٹ پر طلوع ہوگا وغیرہ۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jun 2 by Darul Ifta
...