31 views
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسٸلہ ذیل کے بارے میں
صورت مسٸلہ یہ ہیکہ رمضان کے اندر میں نے شہر اندور کے اندر ختم قرآن کے موقع پر دوران تقریر کہا کہ قرآن کا ایک امتیاز  یہ بھی ھیکہ وہ اللہ کی کتاب بھی ہے اور اللہ کا کلام بھی باقی سابقہ کتابیں صرف اللہ کی کتابیں تھیں اللہ کا کلام نہیں تھیں کیونکہ اللہ نے انکو قرآن میں کتاب کہا ہے کلام نہیں کہا تو مقامی علما ٕ نے مجھ پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس بات کی دلیل دکھاٶ تو میں نے دلیل میں ھدایت القرآن مفتی سعید پالنپوری ج١ ص٥٩ و ج٢ ص ١٩٧کو دکھا دیا جس سے میری بات کی تاٸید ہوتی ہے لیکن کچھ احباب دارالعلوم دیوبند  کی تصدیق چاہتے ہیں
 لہذا آپ حضور والا سے ادبا گزارش ھیکہ اگر میری بات درست ہے تو تصدیق فرماٸیں اور اگر صحیح نہیں ہے تو اصلاح فرماٸیں
 المستفتی محمد عمران مظاہری
موضع سراٶنی ضلع ہاپوڑ یوپی
موباٸل نمبر ٨٠٧٧٤٢٩٤٤٧
asked May 19 in قرآن کریم اور تفسیر by anonymous
reshown Jun 2 by Darul Ifta

1 Answer

Ref. No. 1839/43-1670

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ دیگر کتب سماویہ کو کلام اللہ کہنا حقیقۃً  درست نہیں ہےالبتہ مجازا ان کو بھی کلام اللہ کہاجاسکتاہے۔  کیونکہ کلام اللہ ازلی وابدی ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ نے اٹھائی ہے، جو تغیروتبدل سے پاک ہے ، جو چیلینج کرتاہوا آیاہے،  اور وہ محفوظ بھی ہے جبکہ دیگر کتب سماویہ غیرمحفوظ ہیں اور ان کی اصل عبارات  فنا ہوگئیں ۔ قرآن و حدیث میں قرآن کو ہی کلام اللہ کہاگیاہے، دیگر کتب سماویہ کو کلام اللہ نہیں کہاگیاہے۔ قرآن کریم بعینہ اللہ کا کلام ہے جبکہ دیگر کتب سماویہ کا مضمون من جانب اللہ ہے، ان کی حیثیت حدیث قدسی کی سی ہے ۔ ان کا مضمون اللہ کی جانب سے ہے اس لئے ان کو کتاب اللہ کہاجاتاہے۔ 

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jun 2 by Darul Ifta
...