18 views
کیا فرماتےہیں علماء کرام و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کےبارے
گھر یا دکان کے لیے قرآن خوانی کرنا ہمارا اصل مقصد  ہو اور اس میں مردوں کے لیے ایصال ثواب کردیا جائے تو کوئی حرج کی بات ہے یا نہیں ؟ اور قرآن خوانی میں جو پیسے دیے جاتے ہیں بچوں کو کیا حرام ہے یا حلال ؟ کیا مردوں کے لیے قرآن کا ثواب مردوں تک جاتاہے اس کی کیا دلیل ہے اگر جاتی ہے اور میں برکت والی قرآن خوانی سے بھی سخت نفرت کرتاہوں کیوں کہ یہ بدعت والی قرآنی خوانی کے مشابہ ہے؟ المستفتی : محمد مجاہد
asked Jun 12 in قرآن کریم اور تفسیر by Rahimuddin

1 Answer

Ref. No. 1727/43-1681

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔

آپ نے قرآن خوانی کے تعلق سے تین باتیں معلوم کی ہیں : تینوں کا جواب بالترتیب دیا جارہاہے۔  (1) گھر یا دکان کے لیے قرآن خوانی کرنا درست ہےاور اس قرآن خوانی میں اگر ایصال ثواب کی نیت کر لی جائے توکوئی حرج کی بات نہیں ہے ۔ (2) اگر قرآن دنیوی مقصد کے لیے پڑھا گیا ہو جیسے کہ لوگ دکان یا کاروبار میں برکت کے لیے قرآن پڑھاتے ہیں تاکہ ہماری تجارت میں برکت ہو تو ایسی قرآن خوانی پر اجرت لینا جائز ہے ۔اس لیے ہر وہ کام جو دنیوی فائدہ کے لیے ہو اگر اس پر قرآن پڑھایا جائے اور اس پر اجرت لی جائے تو یہ جائز ہے ۔

عن ابن عباس: أن نفرا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مروا بماء، فيهم لديغ أو سليم، فعرض لهم رجل من أهل الماء، فقال: هل فيكم من راق، إن في الماء رجلا لديغا أو سليما، فانطلق رجل منهم، فقرأ بفاتحة الكتاب على شاء، فبرأ، فجاء بالشاء إلى أصحابه، فكرهوا ذلك وقالوا: أخذت على كتاب الله أجرا، حتى قدموا المدينة، فقالوا: يا رسول الله، أخذ على كتاب الله أجرا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله(صحیح  البخاری،باب الشرط في الرقية بقطيع من الغنم،حدیث نمبر:5737)

 ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی چوں کہ دینی مقصد کے لیے ہے اس پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔  

  قال تاج الشريعة في شرح الهداية: إن القرآن بالأجرة لا يستحق الثواب لا للميت ولا للقارئ. وقال العيني في شرح الهداية: ويمنع القارئ للدنيا، والآخذ والمعطي آثمان. فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون - اهـ.(شامی ، مطلب فی الاستئجار علی المعاصی٦/٥٦)
(3)میت کے لیے ایصال ثواب کا ثبوت احادیث اور سلف کے تعامل سے ثابت ہے اور جس طرح مالی عبادت کا ثواب میت کو پہنچتاہے اسی طرح بدنی عبادت کا ثواب بھی میت کو پہنچتاہے ۔علامہ شامی نے اسے اہل السنت والجماعت کا مسلک قرار دیا ہے ۔

من دخل المقابر فقرأ سورة يس خفف الله عنهم يومئذ، وكان له بعدد من فيها حسنات  بحر. وفي شرح اللباب ويقرأ من القرآن ما تيسر له من الفاتحة وأول البقرة إلى المفلحون وآية الكرسي - وآمن الرسول - وسورة يس وتبارك الملك وسورة التكاثر والإخلاص اثني عشر مرة أو إحدى عشر أو سبعا أو ثلاثا، ثم يقول: اللهم أوصل ثواب ما قرأناه إلى فلان أو إليهم. اهـ. مطلب في القراءة للميت وإهداء ثوابها له [تنبيه]صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط: الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أج ره شي(رد المحتار،مطلب فی زیارۃ القبور ،2/243)۔

قرآن کریم کے ذریعہ میت کو ثواب پہنچانا بھی درست ہے او راس سے میت کو فائدہ پہنچتاہے اور یہ عمل بھی حدیث اور سلف کے تعا مل سے ثابت ہے۔

أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ويس قلب القرآن لا يقرؤها رجل يريد الله والدار الآخرة إلا غفر له، اقرءوها على موتاكم(السنن الکبری للنسائی،حدیث نمبر:10847) وعن مجالد، عن الشعبي " كانت الأنصار إذا حضروا قرؤوا عند الميت البقرة ". مجالد ضعيف.(خلاصۃ الاحکام،باب مایقولہ من مات لہ میت ،حدیث نمبر:3279 )ملا علی قاری مرقات میں لکھتے ہیں : وأن المسلمين ما زالوا في كل مصر وعصر يجتمعون ويقرءون لموتاهم من غير نكير، فكان ذلك إجماعا، ذكر ذلك كله الحافظ شمس الدين بن عبد الواحد المقدسي الحنبلي في جزء ألفه في المسألة، ثم قال السيوطي: وأما القراءة على القبر فجاز بمشروعيتها أصحابنا وغيرهم.(مرقات المفاتیح،باب دفن المیت ، 3/1229)۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jun 12 by Darul Ifta
...