182 views
اگر سات لوگوں میں سے ایک نے عید الاضحی کی نماز پڑھیں اور باقی لوگوں نے نہیں پڑھیں تو کیا اس جانور کی قربانی کی جاسکتی ہے جس کے چھ شرکاء نے نماز نہیں پڑھی ہے؟
اسی طرح اگر کوئی شہر میں ہے جہاں کسی جگہ نماز نہیں ہوئی ہے تو کیا وہ دیہات میں قربانی کرسکتا شہر میں گوشت پاسکتا ہے نماز سے پہلے۔ وضاحت فرمائیں نوازش ہوگی
ثاقب امروہہ
asked Jul 30, 2022 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by azhad1

1 Answer

Ref. No. 1950/44-1855

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شہر میں کسی ایک جگہ بھی عید الاضحی کی نماز ہوگئی تو قربانی کی جاسکتی ہے۔ محل قربانی کا اعتبار کیاجائے گا۔ جو قربانی دیہات میں ہو اس میں نماز عید کا ہوجانا شرط نہیں ہے، اس لئے نماز عید سے پہلے بھی قربانی کی جاسکتی ہے،  پھراگرکوئی شخص قربانی کا  گوشت شہر میں لائے تو حرج نہیں ہے۔  اس لئے صورت مسئولہ میں آپ سب کی قربانی درست ہوگئی۔

وأول وقتها) (بعد الصلاة إن ذبح في مصر) أي بعد أسبق صلاة عيد، ولو قبل الخطبة لكن بعدها أحب وبعد مضي وقتها لو لم يصلوا لعذر، ويجوز في الغد وبعده قبل الصلاة لأن الصلاة في الغد تقع قضاء لا أداء زيلعي وغيره (وبعد طلوع فجر يوم النحر إن ذبح في غيره).

 (قوله: إن ذبح في غيره) أي غير المصر شامل لأهل البوادي، وقد قال قاضي خان: فأما أهل السواد والقرى والرباطات عندنا يجوز لهم التضحية بعد طلوع الفجر، وأما أهل البوادي لايضحون إلا بعد صلاة أقرب الأئمة إليهم اهـ وعزاه القهستاني إلى النظم وغيره وذكر في الشرنبلالية أنه مخالف لما في التبيين ولإطلاق شيخ الإسلام". (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 318)، كتاب الأضحية, ط: سعید)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند 

 

answered Aug 7, 2022 by Darul Ifta
...