7 views
السلام علیکم مفتی صاحب ایک ضروری سوال کا جواب مطلوب ہے،
زید نے اپنی لڑکی زینب کا نکاح ایک لڑکے سے کیا جسکی پہلے سے ایک شادی ہے اور ایک بیٹی بھی ہے پہلی بیوی سے، اب زید اپنے لڑکے کا نکاح اس لڑکے کی پہلی بیٹی سے کرنا چاہتا ہے، جاننا یہ ہےکہ زینب کے بھائی کا نکاح اسکے شوہر کے پہلی بیٹی سے ہوسکتا ہے یا نہیں
جواب جلد مرحمت فرمادیں اللہ جزائے خیر سے نوازےگا۔
asked Aug 28 in نکاح و شادی by md shahid jamaie

1 Answer

Ref. No. 2004/44-1960

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مسئولہ میں زید کے لڑکے کا نکاح زینب کی سوتیلی بیٹی سے  جائز ہے۔ زینب کے بھائی کا زینب کی سوتیلی بیٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لئے دونوں کا رشتہ نکاح جائز ہے۔  

"وبنات الأخوات المتفرقات وبنات الإخوة المتفرقين؛ لأن جهة الاسم عامة

(وبنات الأخوة المتفرقات وبنات الإخوة المتفرقين) ش: أي ويدخل في الآية المذكورة بنات الإخوة والأخوات.
وقوله: المتفرقين بصيغة الجمع المذكر صفة الأخوة التي جمع أخ ويدخل فيه الأخوات التي هي جمع أخت، ومعنى التفرق يعني سواء كانت بنات الأخ لأب وأم أو لأم وبنات الأخت كذلك، وكلهن محرمات على التأبيد بالكتاب والسنة والإجماع". (بنایہ شرح ہدایہ: كتاب النكاح، المحرمات من جهة النسب، 22/5/دار الكتب العلمية)

و) يحرم (‌أخته) ‌لأب ‌وأم، أو لأحدهما لقوله تعالى {وأخواتكم} [النساء: 23] (وبنتها) لقوله تعالى {وبنات الأخت} [النساء: 23] (وابنة أخيه) لأب وأم، أو لأحدهما لقوله تعالى {وبنات الأخ} [النساء: 23].

وإن سفلن) لعموم المجاز، أو دلالة النص، أو الإجماع كما بيناه (وعمته وخالته) لأب وأم، أو لأحدهما لقوله تعالى {وعماتكم وخالاتكم} [النساء: 23۔ (کتاب النکاح، باب المحرمات، 323/1/دار إحياء التراث العربي)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Sep 14 by Darul Ifta
...