2 views
کیا غیر مسلم کے جنازے اور اس کی تیرہویں میں شرکت موجبِ کفر ہے؟
(۶۹)سوال:اگر کوئی مسلمان کسی کافر کی میت میں شریک رہا ہو، اور اس کے گھر تیرہویں میں کھانا کھلانے میں شریک رہا ہو تو کیا وہ مسلمان رہتا ہے یا کافر ہوجاتا ہے؟ کیا اس کے لئے تجدید ایمان وتجدید نکاح لازم ہے؟ قرآن حدیث کی روشنی میں مدلل جواب تحریر فرمائیں؟
فقط: والسلام
المستفتی: مولوی محمد سفیان صاحب، وڈالا ممبئی
asked Sep 17 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

 

الجواب وباللّٰہ التوفیق:بشرط صحت سوال غیر مسلم کے مرنے اور اس کی تیرھویں میں شریک ہونے سے مذکورہ شخص ایمان سے خارج نہیں ہوتا؛ البتہ گناہگار ہوتا ہے۔(۱

(۱) و إذا مات الکافر قال لوالدہ أو قریبہ في تعزیتہ أخلف اللّٰہ علیک خیرا منہ وأصلحک أي أصلحک بالإسلام ورزقک ولدا مسلما لأن الخیریۃ بہ تظہر، کذا في التبیین۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’الباب الخامس عشر في الکسب‘‘: ج ۵، ص: ۳۴۸)

جار یہودي أو مجوسي مات ابن لہ أو قریب ینبغي أن یعزبہ ویقول أخلف اللّٰہ علیک خیرا منہ وأصلحک وکان أصلحک اللّٰہ بالإسلام۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع‘‘: ج ۹، ص: ۵۵۷)

ولا نکفر مسلما بذنب من الذنوب وإن کانت کبیرۃ إذا لم یستحلہا ولا نزیل عنہ اسم الإیمان۔ (أبو حنیفۃ -رحمہ اللّٰہ- شرح الفقہ الأکبر، ’’الکبیرۃ لا تخرج المؤمن عن الإیمان‘‘: ص: ۱۱۷)

)

نوٹ: ہاں کوئی مصلحت پیش نظر نہ ہو تو ان کی رسموں میں شرکت نہیں کرنی چاہئے؛ اس لئے کہ ان کی رسموں میں شرکت باعث گناہ ہے، اور ان کی رسوم وعقائد کو دل سے برا سمجھنا چاہئے؛ اس لئے کہ ان کے باطل عقائد کو صحیح سمجھنے اور ان کی غیر شرعی رسموں پر رضامندی سے ایمان ہی خطرہ میں پڑجاتا ہے۔

الجواب صحیح:

دار العلوم وقف دیوبند

 

answered Sep 17 by Darul Ifta
...