3 views
قرآن یا حدیث مذاقاً بگاڑ کر پڑھنا کیسا ہے؟
(۷۱)سوال:آج کل طلباء میں عام طور پر یہ بات پائی جارہی ہے کہ ’’لاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ‘‘ صحیح سے نہیں پڑھتے ہیں، جب کہ ٹھیک سے پڑھنے کا علم ہے؛ لیکن مذاقاً اور ضحکاً پڑھ کر اڑا دیتے ہیں الفاظ یہ ہیں: ’’لا حول ولا کتاً‘‘ قوۃ کی جگہ، اور ’’باللّٰہ‘‘ کی جگہ ’’بلی‘‘ اداـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کرتے ہیں، سننے میں برا اور قبیح معلوم ہوتا ہے، ایسا پڑھنا کیسا ہے؟ اس کا بروز قیامت مواخذہ ہوگا یا نہیں کیا حکم ہے؟
فقط: والسلام
المستفتی: عرفان احمد، باندہ
asked Sep 17 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

 

الجواب وباللّٰہ التوفیق:ایسا کرنا سخت گناہ ہے مواخذہ ہوگا۔ اور اگر مقصد استہزاء ہو تو کفر عائد ہوجائے گا۔ (۱

(۱) وکذا قولہم بکفرہ: إذا قرأ القرآن في معرض الناس۔

کما إذا اجتمعوا فقرأ: {فَجَمَعْنَا ہُمْ جَمْعًا} وکذا إذا قرأ {وَکَأْساً دِہَاقاً} عند رؤیۃ کأس ولہ نظائر کثیرۃ في ألفاظ التکفیر کلہا ترجع إلی قصد الاستخفاف بہ۔ (شرح الحمودي علی الأشباہ والنظائر، ’’الفن الأول: القاعدۃ الثانیۃ الأمور بمقاصدہا‘‘: ج ۱، ص: ۱۰۵)

)

فقط: واللہ اعلم بالصواب

مفتی اعظم دار العلوم وقف دیوبند

 

answered Sep 17 by Darul Ifta
...