4 views
فتویٰ کا انکار کرنا کیسا ہے؟
(۷۲)سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و شرع متین کہ مفتیان دین جو شرعی مسائل پر فتوے صادر فرماتے ہیں ان پر آمنا وصدقنا کہنا ہر مسلمان کا ایمان ہے؛ لیکن برعکس اس کے اگر کوئی فردِ واحد یا کچھ اشخاص مفتیان دین کے فتوے کو جھٹلاتے ہیں یا ان کے منکر ہیں تو ایسے مسلم اشخاص کی شرعی پوزیشن کیا ہے؟ از راہِ مہربانی صحیح پوزیشن سے آگاہ کریں عنایت ہوگی؟
فقط: والسلام
المستفتی: حافظ عبدالستار، میرٹھ
asked Sep 17 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

 

الجواب وباللّٰہ التوفیق:فتوے میں شرعی مسئلہ کی وضاحت ہوتی ہے، اگر اس سے انکار کرنے والے کا منشاء اور غرض یہ ہے کہ فتوی کچھ بھی ہو یعنی شرعی مسئلہ کچھ ہو اس پر عمل نہیں کریں گے؛ بلکہ اپنی رائے کو مقدم سمجھتے ہیں تو فقہاء نے تصریح کی ہے کہ ایسی صورت میں منکر پر کفر عائد ہوجاتا ہے۔ ’’کما صرح بہ في العالمگیریۃ‘‘ (۱) اور اگر منشاء یہ ہو کہ سوال، واقعہ کے خلاف لکھ کر فتویٰ حاصل کیا گیا ہے، یا مسئلہ غلط لکھا گیا ہے، تو خلاف بولنے والے پر ضروری ہوتا ہے کہ واقعہ کی صحت کو واضح کرے یا فتوے کی غلطی کو کتاب وجزئیات سے ثابت کرے، بغیر ثبوت کے اگر کوئی انکار کرتا ہے، تو اس کی بات قابل توجہ نہیں؛ بلکہ وہ خاطی، اور گنہگار ہے ۔(۲

(۲) إذا جاء أحد الخصمین إلی صاحبہ بفتوی الأئمۃ، فقال صاحبہ: لیس کما أفتوہ أو قال: لا نعمل بہٰذا کان علیہ التعزیر، کذا في الذخیرہ۔ (أیضا:ص: ۲۸۴)

)

فقط: واللہ اعلم بالصواب

 دار العلوم وقف دیوبند

 

 

answered Sep 17 by Darul Ifta
...