6 views
میں ایک حکومتی ملازم ہوں ۔ حکومت ٹھیکیدار جو بھی کام کرتے ہیں  ان کو کچھ فیصد ادائیگی  کام کے بعد یا پہلے ملازم کو دیتے ہیں، اور یہ فیصد شروع میں ہی کام ہونے سے پہلے ہی کام کا تخمینہ میں ایڈجسٹ کی جاتی ہے یعنی ٹھیکیدار کو یہ اپنی جبک سے نہیں دینا ہوتی یہ حکومت . کا پیسہ ہوتا ہے، ٹھیکیدار بنا مانگے یہ فیصد تقسیم کرتے ہیں۔ اور کوالٹی سے کام کراتے ہیں۔ ورک میٹریل کی کوالٹی میں کوئی کیئ نہیں کرتا۔ کیا یہ رشوت ہے؟  کیا اسکو کسی کام میں لگا سکتے ہیں؟ یا پھر ٹھیکیدار اپنی مرضی سے دے تو کیا یہ لے سکتے ہیں؟
asked Oct 31 in تجارت و ملازمت by Naushad Ali

1 Answer

Ref. No. 2108/44-2165

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ملازمین کو ٹھیکیدار کی طرف سے کام سے پہلے  کچھ فیصد جو رقم ملتی ہے وہ کس چیز کے عوض ہے؟ اجرت یا پیسہ کام کے عوض ہونا چاہئے، اس لئے بہتر یہ ہے کام سے پہلے جو پیسے دئے اس کو کسی کام کے عوض میں شمار کرلیاجائے، کیونکہ وہ رقم ٹھیکیدار کی نہیں  بلکہ حکومت کی ہے، اس لئے ٹھیکیدار کی طرف سے اس کو ہدیہ قرار نہیں دیاجاسکتاہے۔  

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Nov 23 by Darul Ifta
...