236 views
Ref. No. 873

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
کیافرماتےہیں مفتیان کرام قرآن مجید کوموبائل اسکرین پراگر کھلاہواہوتو بغیروضوچھوناکیساہےجبکہ بعض مفتیان کرام فرماتےہیں جائز ہےاورجواز کی شکل یہ دیتےہیں کہ یہ ایک موبائل سےنکلنےوالی روشنی ہےجوآنکھ سےٹکرادکھتی ہےاسےمصحف نہیں کہاجاسکتاہےاور یہ ہارڈسک،میموری اور ریم کےاندر ہوتاہےموبائل اس کےلئےایک غلاف ہےاورغلاف کےساتھ قرآن مجیدکوبغیروضوچھوناجائزہےآپ کےیہاں کےمفتیان کرام کاکیارجحان ہےاس سلسلےمیں مفصل جواب دیکرشکریہ کاموقع عنایت فرمائیں
                فروغ احمدرحمانی
asked Dec 12, 2015 in طہارت / وضو و غسل by farogh ahmad

1 Answer

Ref. No. 861 Alif

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                           

بسم اللہ الرحمن الرحیم:موبائل کی اسکرین پر اگر قرآنی آیات کھلی ہوں تو ان کو چھونا درست نہیں ہے۔ جب تک قرآنی آیات میموری کے اندر ہیں اسکرین پر ہاتھ لگانا یا موبائل چھونا منع نہیں ہے؛  لیکن جب الفاظ اسکرین پر نظر آئیں تو ان کا قرآنی آیات کا سا احترام لازم ہوگا۔ واللہ  اعلم بالصواب

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Dec 23, 2015 by Darul Ifta
...