5 views
(۷۸)سوال:ایک بھائی نے دوسرے بھائی سے لڑتے ہوئے فضائل اعمال اور قرآن کریم و غیرہ کو گھر سے باہر پھینک دیا، اور اس کی بے حرمتی کی، لوگوں نے کہا: کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ پھر کہا کہ قرآن کی بے حرمتی اور بھی کروں گا، بعض گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کو گاؤں سے باہر نکال کر سنگسار کردیا جائے: یہ کیسا ہے؟
فقط: والسلام
المستفتی: سید محمد اکبر ہمدانی
asked Nov 22 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مذکورہ شخص اپنے مذکورہ قول و فعل کی وجہ سے اسلام سے خارج ہوگیا ہے، اس سے اسلامی تعلق باقی رکھنا درست نہیں اور ضروری ہے کہ ہر طرح سے رابطہ منقطع کرلیا جائے۔ تاہم اگر وہ توبہ کرلے او راگر شادی شدہ ہے، تو اپنے نکاح کی تجدید کرے تو اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا معاملہ کیا جائے گا۔ (۱)

’’إذا أنکر آیۃ القرآن أو استخف بالقرآن أو بالمسجد، أو بنحوہ مما یعظم في الشرع، أوعاب شیئاً من القرآن … أو سخر بآیۃ منہ کفر‘‘(۲)

 

(۱) إذا أنکر الرجل آیۃ من القرآن أو تسخر بآیۃ من القرآن، وفي ’’الخزانۃ‘‘: أو عاب کفر، کذا في التاتار خانیۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، موجبات الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بالقرآن‘‘: ج ۲، ص: ۲۷۹)

(۲) عبد الرحمن بن محمد، مجمع الأنہر في شرح ملتقی الأبحر، کتاب السیر والجہاد: باب المرتد، ثم إن ألفاظ الکفر أنواع‘‘: ج ۲، ص: ۵۰۷)

 

دارالافتاء

دار العلوم وقف دیوبند

 

answered Nov 22 by Darul Ifta
...