6 views
(۸۱)سوال:ایک شخص ٹخنہ سے نیچے پائجامہ رکھتا ہے اس کو حرام بھی جانتا ہے اور کسی نے بتایا کہ حرام کو حلال بولنے سے ایمان چلا جاتا ہے، کیا ایسی صورت میں ایمان و نکاح پر کوئی فرق پڑے گا؟
فقط: والسلام
المستفتی: محمد افتخار، جوجھارپور، سنت کبیر نگر
asked Nov 22 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:اگر عقیدہ حرام کو حلال سمجھنے کا نہ تھا، اور ایسے ہی حرام کو حلال کہہ دیا تو ایمان ونکاح باقی ہے؛ لیکن ٹخنوں سے نیچے پائجامہ کرنا مکروہ تحریمی ہے، اس سے اجتناب کریں۔(۳)

(۳) {یاَیُّھَا النَّبِیُّ  لِمَ  تُحَرِّمُ  مَآ  أَحَلَّ اللّٰہُ  لَکَ تَبْتَغِيْ} (سورۃ تحریم: ۱)

وما کان خطأ من الألفاظ ولا یوجب الکفر، فقائلہ مؤمنٌ علی حالہ ولا یؤمر بتجدید النکاح والرجوع عن ذلک کذا في المحیط۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، موجبات الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بتلقین الکفر‘‘: ج ۲، ص: ۲۹۳)

عن عبد الرحمن عن أبیہ، قال: سألت أبا سعید الخدريّ عن الإزار فقال: علی الخبیر سقطت، قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إزارۃ المسلم إلی نصف الساق ولا حرج -أو لا جناح- فیما بینہ وبین الکعبین، ما کان أسفل من الکعبین فہو في النار، من جرَّ إزارہ بطرا لم ینظر اللّٰہ إلیہ۔ (أخرجہ أبوداود، في سننہ، ’’کتاب اللباس: باب في قدر موضع الإزار‘‘: ج ۲، ص: ۵۶۶، رقم: ۴۰۹۵)

دار الافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

 

answered Nov 22 by Darul Ifta
...