6 views
(۸۲)سوال:اگر کوئی شخص احکام وارکان شرعیہ میں سے کسی رکن یا حکم کا انکار یا استہزا کرے، تو اس کے متعلق کیا حکم ہوگا اور اگر کوئی ایسا شخص ہو جو عقیدہ تو درست رکھتا ہو مگر عمل نہ کرتا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
فقط: والسلام
المستفتی: عبداللہ، علی گڑھ
asked Nov 22 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:احکام شرعیہ کے مکلف انسان اور جنات ہیں، عقیدہ شرعیہ جن کا دین میں ہونا معروف ہو اور وہ اصول دین میں سے ہو، اس میں سے کسی عقیدہ کا انکار موجب کفر ہے، مثلاً: نماز کی فرضیت کا کوئی انکار کردے، اسی طرح شریعت کے کسی حکم کا مذاق واستہزاء بھی کفر کا باعث ہے(۱) اور کسی فرض وواجب کے بارے میں اگر عقیدہ درست ہو؛ لیکن عمل نہ کرے تو ایسا شخص فاسق ہوجاتا ہے، ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔(۲)

…(۱) و إذا قال الرجل لغیرہ: حکم الشرع في ہذہ الحادثۃ، کذا فقال ذلک الغیر: ’’من برسم کار میکنم نہ بشرع‘‘ یکفر عند بعض المشایخ رحمہم اللّٰہ تعالیٰ، وفي ’’مجموع النوازل‘‘ قال رجل لإمرأتہ: ما تقولین أیش حکم الشرع فتجشأت جشائً عالیا فقالت: ’’اینک شرع را‘‘ فقد کفرت وبانت من زوجہا، کذا في المحیط۔

رجل عرض علیہ خصمہ فتوی الأئمۃ فردہا، وقال ’’جہ بار نامہ فتوی آوردہ‘‘ قیل یکفر؛ لأنہ ردّ حکم الشرع وکذا لو لم یقل شیئاً لکن ألقی الفتوی علی الأرض، وقال ’’این چہ شرع است‘‘ کفر۔

رجل استفتی عالماً في طلاق إمرأتہ فأفتاہ بالوقوع فقال المستفتي ’’من طلاق ملاق جہ دانم مادر بجکان باید کہ بخانہ من بود‘‘ أفتی القاضي الإمام علي السغدي بکفرہ کذا في الفصول العمادیَّۃ۔ إذا جاء الخصمین إلی صاحبہ بفتوی الأئمۃ فقال صاحبہ: لیس کما أفتوہ أو قال لا نعمل بہٰذا کان علیہ التعزیر، کذا في الذخیرۃ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، موجبات الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بالعلم والعلماء‘‘: ج ۲، ص: ۸۳- ۲۸۴)

ہي فرض عین علی کل مکلف ویکفر جاحدہا لثبوتہا بدلیل قطعيِّ وتارکہا عمداً مجانۃً أي تکاسلاً فاسقٌ۔ ( ابن عابدیں، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الصلوٰۃ‘‘: ج ۲، ص: ۴)

(۲) لو قال لمریض صلِّ، فقال: واللّٰہ لا أصلی أبداً، ولم یصلي حتی مات یکفر، وقول الرجل: لا أصلي یحتمل أربعۃ أوجہ: أحدہا: لا أصلي لأني صلیت، والثاني: لا أصلِّی بأمرک، فقد أمرني بہا من ہو خیرٌ منک، والثالث: لا أصلي فسقا مجانۃ، فہٰذہ الثلاثۃ لیست بکفر۔ والرابع: لا أصلي إذ لیس یجب عليّ الصلاۃ، ولم أؤمر بہا یکفر، ولو أطلق وقال: لا أصلي لا یکفر لاحتمال ہذہ الوجوہ۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، موجبات الکفر أنواع، ومنہا ما یتعلق بالصلاۃ والصوم والزکاۃ‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۰)

إذا کان في المسالۃ وجوہ توجب الکفر، ووجہ واحدٌ یمنع، فعلی المفتي أن یمیل إلی ذلک الوجہ، کذا في ’’الخلاصۃ في البزّازیۃ‘‘ إلا إذا صرّح بإرادۃ توجب الکفر، فلا ینفعہ التأویل حینئذٍ کذا في البحر الرائق، ثم إن کانت نیۃ القائل الوجہ الذي یمنع التکفیر فہو مسلم

وإن کانت نیتہ الوجہ الذي یوجب التکفیر لا تنفعہ فتوی المفتي، ویؤمر بالتوبۃ والرجوع عن ذلک وبتجدید النکاح بینہ وبین إمرأتہ، کذا في المحیط۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، موجباب الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بتلقین الکفر‘‘: ج ۲، ص: ۲۹۳)

دارالافتاء

ڈارالعلوم وقف دیوبند

 

 

answered Nov 22 by Darul Ifta
...