4 views
(۸۳)سوال:چیچک کو لوگ مرض اور بیماری نہیں سمجھتے؛ بلکہ اس کو دیوی تصور کرکے اس کا نام تعظیم کے ساتھ لیتے ہیں اور ہندو عورتوں کو جمع کرکے دریا کے کنارے گانا بجانا اور چڑھاوا چڑھاتے ہیں کیا ایسے لوگ کافر ومرتد ہوں گے یا فاسق وفاجر مسلمان؟
فقط: والسلام
                            المستفتی: شمیم احمد، کشمیر
asked Nov 22 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:جو مسلمان ایسا عقیدہ رکھتے ہیں اور پھر اس کے لئے مذکورہ عمل کرتے ہیں وہ فاسق و فاجر ہیں کافر و مرتد ان کو نہ کہا جائے؛ کیونکہ فقہاء نے تکفیر کرنے میں احتیاط کرنے کو فرمایا ہے؛ لیکن تجدید نکاح کرلینا ان کے لئے بہتر ہے۔ جب تک وہ ان رسوم شرکیہ سے توبہ نہ کرے اس سے تعلقات ختم کردیئے جائیں۔(۱)

(۱) ما کان في کونہ کفرا اختلافٌ فإن قائلہ یؤمر بتجدید النکاح و بالتوبۃ والرجوع عن ذلک بطریق الاحتیاط، وما کان خطأ من الألفاظ ولا یوجب الکفر، فقائلہ مؤمنٌ علی حالہ، ولا یؤمر بتجدید النکاح والرجوع عن ذلک، کذا في المحیط۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، موجبات الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بتلقین الکفر‘‘: ج ۲، ص: ۲۹۳)

إن ما یکون کفراً اتفاقاً یبطل العمل والنکاح، وما فیہ خلاف یؤمر بالاستغفار والتوبۃ و تجدید النکاح، وظاہرہ أنہ أمر احتیاطي۔ (ابن عابدین، رد المحتار علی الدر المختار، ’’کتاب الجہاد: باب المرتد، مطلب: الإسلام یکون بالفعل کالصلاۃ بجماعۃ‘‘: ج ۶، ص: ۳۶۷)

وإذا وصف اللّٰہ تعالیٰ بہا فہي نفي العجز عنہ ومحال أن یوصف غیر اللّٰہ بالقدرۃ المطلقۃ۔ (أبو القاسم الحسین بن محمد، المفردات في غریب القرآن، ’’قدر‘‘: ج ۱، ص: ۳۹۵)

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

 

answered Nov 22 by Darul Ifta
...