148 views
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ ۔
آپ سے ایک علمی سوال دریافت کرنا ہے کہ طلاق کے الفاظ مصحفہ جیسے تلاق ، تلاک ، تلاخ ، تلاع  جو شامی وغیرہ میں مذکور ہیں ان کے علاوہ بھی کیا ہو سکتے ہیں جیسے" تلات " اور " تلاف " یا ان ہی میں منحصر ہیں ؟ یا کوئی قاعدہ کلیہ ہے جس سے معلوم ہو کہ کس مصحفہ لفظ سے وقوع طلاق کا حکم لگے گا ؟
asked Dec 29, 2022 in طلاق و تفریق by Kamil zakir nakum

1 Answer

Ref. No. 2172/44-2284

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جو الفاظ شرعا یا عرفا طلاق کے لئے استعمال ہوتے ہیں ، ان کو اس طرح بدل دینا کہ بدلنے کے بعد بھی وہ عوام میں مستعمل ہوں  اور ان کو بول کر طلاق مراد ہوتی ہو  تو ان کو بولنے سے بھی  طلاق واقع ہوجاتی ہے،  لیکن  اگر ایسی تبدیلی کردی کہ عرف میں بالکل بھی اس کا استعمال نہیں ہے اور الفاظ طلاق سے اب وہ لفظ  کوئی مناسبت نہ رکھتاہو تو اس کو  بولنے سے طلاق نہیں ہوگی اور ان کو الفاظ مصحفہ میں شمار نہیں کیاجائے گا۔

رد المحتار - (10 / 500):

"باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لاتخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح ، ويدخل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك وتلاك أو " ط ل ق " أو " طلاق باش " بلا فرق بين عالم وجاهل ، وإن قال: تعمدته تخويفًا لم يصدق قضاء إلا إذا أشهد عليه قبله وبه يفتى."

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jan 3, 2023 by Darul Ifta
...