152 views
جنید - جس کی بیوی زینب ہے - نے بالکل تنہائی میں کتاب میں پڑھے ہوئی ہی طلاق کی ایک صورت مسئلہ کی نقالی کرتے ہوئے قصداً اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اور زبان کو اپنے جبڑوں میں دبا کر اور دونوں جبڑوں کو ملا کر " اس کو طلاق" بولنے کی کوشش کی ۔ پہلے بھی وہ ایسی ہی نقالی کر چکا تھا تو اس وقت کچھ بھی تلفظ نہیں ہوا تھا ۔ اس بار بھی اس کو یہی یقین تھا کہ الفاظ ادا نہ ہوں گے لیکن اب کی بار غفلت کی بنا پر سبقت لسانی ہوگئی اور اس کو " ات تو تلات " کے الفاظ سنائی دیے تو کیا طلاق واقع ہو گی ؟ جب کہ نقالی کرتے وقت وہ اپنی بیوی زینب کو تصور میں قصداً لا رہا تھا ۔ اور اس کو اغلب علم  یہی ہے اور قرائن سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وقوع طلاق کی نیت اس کی نہ تھی لیکن اس کو طلاق کی نیت کا شبہ بھی ہے ۔ اگر نیت کے باوجود اس صورت میں طلاق واقع نہ ہو تو ضرور وضاحت کریں کہ دل کو تسلی ہو جاوے ۔
asked Jan 2, 2023 in طلاق و تفریق by Kamil zakir nakum

1 Answer

Ref. No. 2183/44-228

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ طلاق کے تکلم کے وقت بیوی  کی جانب طلاق کی نسبت صراحۃً یا اشارۃ یا دلالۃ ہونا  ضروری ہے۔  اگر جنید نے تنہائی میں طلاق کا تکلم کیا اور بیوی کا صرف تصور کیا توطلاق واقع نہیں ہوگی۔ اور اگر بیوی کی جانب طلاق کو منسوب کیا تھا تو اب طلاق کے الفاظ زبان سے نکلتے ہی طلاق واقع ہوجائے گی، نیت طلاق کی رہی ہویا نہ رہی ہو۔ صریح الفاظ میں نیت معتبر نہیں ہوتی ہے۔

"أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: " أنت طالق " أو " أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة " مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها." (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب الطلاق، فصل في النية في أحد نوعي الطلاق وهو الكناية، 3/101، ط: دارالکتب العلمیة)

وقد مر ان الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لايستعمل عرفا الافيه من اي لغة كانت،وهذا في عرف زمانناكذالك فوجب اعتباره صريحا كما افتي المتاخرون في انت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلانية ۔ (ردالمحتار علي الدر المختار ،كتاب الطلاق ،باب الصريح ،مطلب الصريح نوعان رجعي وبائن(3 /252)ط:سعيد)

رد المحتار - (10 / 500):

"باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لاتخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح ، ويدخل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك وتلاك أو " ط ل ق " أو " طلاق باش " بلا فرق بين عالم وجاهل ، وإن قال: تعمدته تخويفًا لم يصدق قضاء إلا إذا أشهد عليه قبله وبه يفتى."

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jan 5, 2023 by Darul Ifta
...