70 views
منت مانی کہ میرا کام ہو گیا تو میں میلاد کروں گا:
(۳۴)سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں:
زید نے منت مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا، تو میں میلاد کروں گا اور ہمارے یہاں میلاد کا طریقہ ہے کہ ایک مجلس منعقد کی جاتی ہے اور تلاوت ونعت خوانی کے بعد مولوی صاحب اپنی باتیں بتاتے ہیں پھر اس کے بعد مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں تو ایسی منت ماننا اور یہ مروّجہ طریقہ درست ہے یا نہیں؟
فقط: والسلام
المستفتی: عبدالسلام صاحب، کلکتہ
asked May 24, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وبا اللّٰہ التوفیق:صورت مسئولہ میں میلاد کی منت درست نہیں؛ اس لئے اس منت کا پورا کرنا زید پر ضروری نہیں بلکہ اگر زید نے مروجہ طریقہ پر میلاد کرایا تو مرتکب بدعت ہوگا۔ اس سے پرہیز اولیٰ ہے؛ البتہ علماء وصلحاء سے وعظ کہلوانا اور نعت پڑھوانا اس میں اجر و ثواب ہے اس میں بھی مٹھائی وغیرہ کا رواجی انتظام نہ کیا جائے تاکہ جو حضرات اس میں شریک ہوں وہ اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے شریک ہوں مٹھائی یا کسی قسم کے کھانے کا لالچ نہ ہو اس سے ثواب ختم ہوجائے گا۔ (۱)

(۱) لا یلزم النذر إلا إذا کان طاعۃ ولیس بواجب وکان من جنسہ واجب … علی التعیین فلا یصح النذر بالمعاصي ولا بالواجبات إلخ۔ (ابن نجیم، الأشباہ والنظائر، ’’کتاب الصوم: الفن الثاني‘‘: ج ۲، ص: ۷۱)
واعلم أنہم صرحوا بأن شرط لزوم النذر ثلاثۃ کون المنذور لیس بمعصیۃ وکونہ من جنسہ واجب إلخ۔ (ابن نجیم البحر الرائق، ’’کتاب الصوم: فصل ومن نذر صوم یوم النحر‘‘: ج ۲، ص: ۵۱۴)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص336

 

answered May 25, 2023 by Darul Ifta
...