44 views
گیارویں وغیرہ پر دعوت کرنا:
(۹۳)سوال:گیارھویں وغیرہ مواقع پر لوگ بزرگوں کے لئے کھانا پکاکر کھلاتے ہیں، اس کی کیا حیثیت ہے؟
فقط: والسلام
المستفتی: محمد شاہد فاروق، سہارنپور
asked Jun 6, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:ایک صورت تو یہ ہے کہ کھانا کھلایا جائے اور ثواب کی نیت کسی پیر وبزرگ کے لئے کرلی جائے، اس کے جواز میں کوئی شبہ نہیں؛ لیکن مذکورہ صورت میں ۱۱؍ تاریخ متعین کرنا، اس کے لیے رقم جمع کرنا، غرباء و فقراء کے بجائے ملنے جلنے والوں کو کھلانا، پیر اور مزار کا نام رکھنا اور متعین کرنا، یہ تمام اس بات کی علامات ہیں کہ اللہ کے نام کے بجائے پیر ہی کے نام پر سب کیا اور کھلایا جارہا ہے، اس لیے اس میں حصہ لینا یا وہ کھانا کھانا جائز نہیں ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔(۱)

(۱) {إِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآئِ وَالْمَسٰکِیْنِ} (سورۃ التوبۃ: ۶۰)
الوصیۃ المطلقۃ لا تحل للغني لأنہا صدقۃ، وہي علی الغني حرام۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الوصایا: باب الوصیۃ بالحدمۃ والسکنیٰ والثمرۃ، فصل في وصایا الذمي‘‘: ج ۱۰، ص: ۴۰۶)
عن عائشۃ رضي اللّٰہ عنہا، قالت: قال رسول اللّٰہ علیہ وسلم: من أحدث في أمرنا ہذا ما لیس فیہ فہو رد۔ (أخرجہ البخاري، في صحیحہ، ’’کتاب الصلح: باب إذا اصطلحوا علی صلح جور‘‘: ج ۱، ص: ۳۷۱، رقم: ۲۶۹۷)
واعلم أن النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام وما یؤخذ من الدراہم والشمع والزیت ونحوہا إلی ضرائح الأولیاء الکرام تقربا إلیہم فہو بالإجماع باطل وحرام۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصوم: باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، مطلب فی النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام‘‘: ج ۳، ص: ۴۲۷)
من تعبد للّٰہ تعالی بشيء من ہذہ العبادات الواقعۃ في غیر أزمانہا فقد تعبد ببدعۃ حقیقیۃ لا إضافیۃ فلا جہۃ لہا إلی المشروع بل غلبت علیہا جہۃ الابتداع فلا ثواب فیہا۔ (أبو اسحاق الشاطبي، الاعتصام: ج ۲، ص: ۲۶)
وشر الأمور محدثاتہا، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ وفي روایۃ: وشر الأمور محدثاتہا، وکل محدثۃ بدعۃ۔ (أخرجہ أحمد، في مسندہ، ’’مسند جابر بن عبد اللّٰہ رضي اللّٰہ عنہ‘‘: ج ۲، ص: ۵۹۲، رقم: ۸۶۷)


فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص396

answered Jun 6, 2023 by Darul Ifta
...