53 views
چالیسواں کا شرعی حکم:
(۹۴)سوال:ہمارے یہاں دستور ہے کہ اگر کسی شخص کا انتقال ہو جائے تو سوا مہینے کے بعد عام دعوت کرتے ہیں، تو شرعی نقطہ نظر سے یہ کیسا ہے؟
فقط: والسلام
المستفتی: محمد اسلم، کرناٹکی
asked Jun 6, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:سوا مہینے پر دعوت وغیرہ کو امر شرعی سمجھنا تو بالکل بدعت اور گناہ ہے۔ اتفاقاً اگر دعوت وغیرہ ہو اور اس کو حکم شرعی اور لازم نہ سمجھا جائے؛ نیز خلاف شرع کسی چیز کا ارتکاب نہ ہوتو جائز ہے۔(۱)

(۱) ویکرہ اتخاذ الضیافۃ من الطعام من أہل المیت لأنہ شرع في السرور لا في الشرور، وہي بدعۃ مستقبحۃ۔ (ابن الہمام، فتح القدیر، ’’کتاب الصلاۃ: فصل في الدفن‘‘: ج ۲، ص: ۱۵۱)
ویکرہ اتخاذ الطعام في الیوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلی القبر في المواسم۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصلاۃ: باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في کراہۃ الضیافۃ من أہل المیت‘‘: ج ۳، ص: ۱۴۸)
وشر الأمور محدثاتہا، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ وفي روایۃ: وشر الأمور محدثاتہا، وکل محدثۃ بدعۃ۔ (أخرجہ أحمد، في مسندہ، ’’مسند جابر بن عبد اللّٰہ‘‘: ج ۲، ص: ۵۹۲، رقم: ۸۶۷)
عن معمر عن لیث عن سعید بن جبیر قال ثلاث من عمل الجاہلیۃ النیاحۃ، والطعام علی المیت۔ (أخرجہ عبد الرزاق الصنعاني، في مصنفہ: ج ۳، ص: ۵۵۰، رقم: ۶۶۶۴
)

 فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص397

answered Jun 6, 2023 by Darul Ifta
...