Select Language
EN  |  UR  |  AR

    فوری لنکس  

دارالعلوم دیوبند کی نشأۃ ثانیہ

دارالعلوم وقف دیوبند


۱۹۸۰ء میں حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد طیب صاحب نوراللہ مرقدہٗ مہتم دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں دارالعلوم دیوبند کا جشن صدسالہ بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب حضرت حکیم الاسلام قد س سرہ العزیز بحیثیت مہتم دارالعلوم کی زائد از نصف صدی پر محیط شبانہ روز محنت نے ان کے جد امجد بانئ دارالعلوم حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہٗ کے قائم کردہ دارالعلوم دیوبند کو عروج اور نیک نامی کے نصف النہار پرپہنچا دیا تھا۔ اس تقریب صد سالہ میں تقریبا بیس لاکھ فرزندان توحید نے حضرت حکیم الاسلامؒ کی دعوت پر لبیک کہا، سربراہان مملکتوں نے اپنے وفود اظہار تہنیت اور حکیم الاسلامؒ اور دارالعلوم دیوبند کی طرف عقیدت و احترام کے ساتھ روانہ کیے۔ اس سے قبل حضرت حکیم الاسلام ؒ بحیثیت مہتم دارالعلوم دیوبند اور بحیثیت قائد امت اسلام ہندوستان میں اسلامی شریعت اور مسلمانوں کے عائلی شرعی قوانین کے تحفظ کے لیے حکومت وقت کو مجبور کر چکے تھے کہ وہ مسلم پرسنل لأکو قانونی طور پر منظور کرے۔ حضرت حکیم الاسلامؒ و دارالعلوم دیوبند کی قائدانہ حیثیت بحیثیت ادارہ و شخصیت دو ایسے لازم وملزوم جزبن چکے تھے جسے حکومت وقت کے لیے برداشت کرنا دشوار ہو رہا تھا۔ حکیم الاسلامؒ کی دعوت پر دیوبند جیسے چھوٹے سے قصبے میں لاکھوں لاکھ فرزندان توحید کا جم و غفیر یقیناًاس وقت کے ارباب اقتدار کے لیے پریشانی کا باعث تھا، کب گوارہ تھا اُس ارباب اقتدار کو کہ مسلمان ایک پرچم تلے، اور ایک شخص کی قیادت میں متحد ہوں۔ اور اس سے بھی بڑی دشواری یہ تھی کہ آخر اس ضعیف اور نحیف شخص میں وہ کون سی کشش ہے کہ فرقوں اور گروہوں میں تقسیم یہ قوم اسے خوشی خوشی اپنا متفق علیہ قائد تسلیم کر چکی ہے؟حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے قائم کیے گیے آل انڈیا مسلم پرسنل لأبورڈ کے بینر تلے مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر اورفرقوں کے قائدین و افرادجمع ہو کر حکیم الاسلام ؒ کو اپنا قائد تسلیم کر چکے تھے۔  
حکیم الاسلام ؒ کا موقف ہمیشہ غیر سیاسی رہا۔ حضرتؒ نے دارالعلوم دیوبند کو ہمیشہ اپنے اکابرین کی روایات کے مطابق تمام طرح کی سیاسی آلودگیوں سے علیحدہ رکھا۔حکیم الاسلام ؒ خالص علمی شخصیت تھے،مدبر اور مفکر تھے، دین اور اسلام ان کا اوڑنا بچھونا تھا، قاسمی شرافت و سادہ لوحی ان کے مزاج کا جزو لاینفک تھی،حکیم الاسلامؒ اپنے یا غیروں کے جس پلیٹ فارم پر بھی جاتے صرف دین اور اسلام کی بات کرتے۔ انکے تمام خطبات اور انکی تحریریں انکی علمی اور غیر سیاسی فکر کی شاہد ہیں۔ لیکن دارالعلوم دیوبند سے منسلک چند ایسے افراد موجود تھے جنکا مروجہ سیاست میں عمل دخل تھا۔ دارالعلوم کے عظیم الشان اجلا س صدسالہ کے بعد یہ افراد متحرک ہو گئے اوردارالعلوم کی علمی فضا متأثر ہونے لگی ۔ حضرت حکیم الاسلامؒ جو سیاست کی شعبدہ بازیوں سے بالکل ناواقف تھے وہ ان سیاسی چالوں سے بھلا کب پار آ سکتے تھے جو دارالعلوم دیوبند میں انکے اقتدار کو ختم کرنے کے لیے شروع ہو چکی تھیں۔ سیاست کی چالیں بہت خطرناک ہوتی ہیں اور وہ اس وقت بہت خطرناک اور تباہ کن رخ اختیار کر لیتی ہیں جب کہ مدمقابل سیاست کے حربوں سے بالکل واقف نہ ہو، یہی دارالعلوم میں ہو رہا تھا۔ حضرت حکیم الاسلامؒ نے دارالعلوم کے تحفظ کے لئے مجلس شوری کو تحلیل کر نے کا حکم دیا، وجہ اسکی صرف یہی تھی کہ مجلس شوری کے اکثر افراد جو خود سادہ لوح اور علمی شخصیات تھے وہ سیاسی پالیسیوں کا شکار ہو گیے۔مخلصین و مشاہرین امت انتظامیہ اور مخلصین ادارہ اور ملک کے طول و عرض کے مشورے سے اٹھائے گئے اس قدم کو یہ رنگ دیا گیا کہ اس سے دارالعلوم کا وقار مجروح ہوا ہے، حالاں کہ حضرت حکیم الاسلام ؒ نے دارالعلوم کے تحفظ کے مد نظر اُس مجلس شوری کو تحلیل کرنے کا فیصلہ لیا جو اب سیاست کا شکار ہو چکی تھی۔حضرت حکیم الاسلام ؒ پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے صاحبزادے حضرت مولانامحمد سالم  قاسمی صاحب مد ظلہ العالی کو دارالعلوم کا مہتم بنا نا چاہتے ہیں۔ جبکہ اس پروپیگنڈے کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا اور بالفرض مان بھی لیا جائے کہ حضرت ؒ اپنے فرزند کو اپنے بعد دارالعلوم کے مسند اہتمام پر فائز کرنے کے خواہشمند تھے تو اس میں حرج کیا تھا؟ حضرت مولانا محمد  سالم قاسمی صاحب نے بعد کے دور میں اپنی وسیع الفکر علمی صلاحیت اور اپنی قاسمی نسبت سے یہ ثابت کر کے دکھایا کہ اپنے جد اعلی امام نانوتویؒ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دارالعلوم وقف دیوبند کو ایک قلیل مدت میں عالمی اداراہ بنانے میں وہ کامیاب ہوئے۔پوری جماعت علماءِ دیوبند میں ان کے ہم پلہ کوئی عالم اور مدبر موجود نہیں ہے۔تو کیا حضرت حکیم الاسلام کے بعد دارالعلوم کو ایسے ہی کسی مہتم کی ضرورت نہ تھی؟
اس پر فتن دور میں حضرت کے اہتمام کے خلاف تمام تر سازشوں کی انتہا تب ہوئی جب دارالعلوم دیوبند میں حکیم الاسلامؒ نے تعطیل کا اعلان کیا اور طلبہ کو وطن واپس لوٹنے کا حکم دیا تو دارالعلوم کی ایک غیر مخلص جماعت نے ان طلبہ کو انتظامیہ کے خلاف بھڑکا کر دارالعلوم کیمپ کے نام سے متوازی ادارہ شروع کر دیا ۔ دارالعلوم کی فضا کو قال اللہ اور قال الرسول کی صداؤں سے کم و بیش پانچ مہینے محروم رکھا گیا۔  
۲۳۔۲۴ مارچ ۱۹۸۲ء کی درمیانی شب میں دارالعلوم کی عمارات پر حکومت کے تعاون سے قبضہ کرلیا گیا۔یہی نہیں بلکہ یہ پروپیگنڈہ بھی کیا گیا کہ حکیم الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے عہدۂ اہتمام سے استعفا دے دیا ہے۔جب کہ حضرتؒ نے کبھی بھی عہدۂ اہتمام سے استعفا نہیں دیا اور آپ تا حیات دارالعلوم کے مہتم رہے۔ حکیم الاسلام ؒ صبر کا پیکر تھے ، حضرت ؒ نے اس اندوہناک حادثے پر صبر کا دامن تھاما اور دنیا بھر میں پھیلے اپنے معتقدین و محبین دارالعلوم کو بھی صبر کی تلقین کی۔حضرت ؒ نے دارالعلوم کی عظمت اور روحانیت کو محفوظ رکھنے کے لئے کنارہ کشی اختیار فرمالی۔حضرتؒ ہر صورت میں دارالعلوم کو فساد اور شرسے محفوظ رکھنا چاہتے تھے، اور چاہتے بھی کیوں نہ، جس شخص نے نصف صدی سے زیادہ مدت تک دارالعلوم کی اپنے خون و جگر سے آبیاری کی ہو بھلا وہ اپنے آباء و اجداد کے لگائے شجر طوبی کو کیسے زک پہنچنے دیتا؟ حضرت حکیم الاسلام مولانامحمد طیب صاحب ؒ کے زیر انتظام دارالعلوم کی خدمات انجام دینے والے کبار علمأو منتظمین مثلا حضرت مولانا سید انظر شاہ صاحب کشمیریؒ ، حضرت مولانا محمد نعیم صاحب دیوبندیؒ ، حضرت مولانا خورشید عالم صاحبؒ ، حضرت مولانا خالد بلیاوی ؒ ، مولانا مفتی شکیل سیتا پوری مد ظلہ ، مولانا محمد عبد الحق غازی پوریؒ اور مولانا قاری محمد عبداللہ سلیم دامت برکاتہم وغیرہ اور ایک سو پچاس سے زائد اساتذہ، اراکین و ملازمین نے غیرآئینی انتظامیہ کے ماتحت کام کرنے سے انکار کر د یا ۔ ان خدام دارالعلوم نے بے سرو سامانی اور تنگ دستی کو قبول کر لیا اور حضرت حکیم الاسلام ؒ کے ساتھ رہتے ہوئے حق کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔
با ت شایدیہیں پر ختم ہو جاتی۔ لیکن بدقسمتی نے چمن قاسم کا دامن نہیں چھوڑا تھا۔ اپنے سیاسی قبضے کو مضبوط اور مزید مستحکم کرنے کے لیے نئی غیر آئینی انتظامیہ نے دارالعلوم دیوبند کے وقف علی اللہ ہونے کا انکار کر دیا اور اسے ایک رجسٹرڈ سرکاری ادارے میں تبدیل کر دیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ان کے اس اعلان نے حضرت حکیم الاسلام کے معتقدین و دنیا بھر میں پھیلے علمائے دیوبند کو بے چین کر دیا۔ حضرتؒ کے متعلقین اور معتقدین نے حضرت ؒ سے درخواست کی کہ دارالعلوم دیوبند کی نشأۃ ثانیہ کی جائے اور دارالعلوم کی روحانیت کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ دارالعلوم دیوبند کسی عمارت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مقدس تحریک کا نام ہے، دارالعلوم اپنے کئی ادوار سے گزرا ہے، کبھی وہ چھتہ مسجد میں رہا تو کبھی وہ جامع مسجد میں رہا ، اب پھر ضرورت ہے کہ اسلام کے اس عظیم سرمائے کو محفوظ کرنے کے لئے اسے پھر کہیں اور منتقل کیا جائے۔ دارالعلوم کی وقف للہیت ختم ہوجانے کے بعد اس کی روح نکل چکی ہے، لہٰذا اسکو زندگئ نو دینے کے لئے اسکی نشأۃ ثانیہ لازم ہو چکی ہے۔ لہٰذا حضرت حکیم الاسلام قدس سرہ العزیز کی قیادت میں لفظ ’’وقف‘‘ کے اضافے کے ساتھ ’’دارالعلوم وقف دیوبند‘‘ کی شکل میں دارالعلوم دیوبند کی نشأۃ ثانیہ ہوئی اورمسند الہند حضرت امام ولی اللہ دہلوی ؒ ،بانئ دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام حضرت امام محمد قاسم نانوتویؒ ،قطب عالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ ، شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن ؒ ، امام العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ ، شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر عثمانیؒ ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ ،حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ وغیرہ کبار علمائے اسلام کا علمی سرمایہ ایک بار پھر دارالعلوم وقف دیوبند کی شکل میں محفوظ کر دیا گیا۔ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء۔  
حضرت حکیم الاسلامؒ نے اپنے اخلاف کو ہمیشہ یہی نصیحت و وصیت کی کہ ’’اختلاف بات سے ہوتا ہے اور خلاف ذات  سے ہوتا ہے‘‘ دارالعلوم دیوبند کا یہ بحران بات سے اختلاف کا نتیجہ ہے لیکن جہاں تک معارضین کی ذوات کا تعلق ہے سب ہی حضرات جماعت کا حصہ ہیں، رضا بالقضاء کا تقاضہ یہ ہے کہ پیش آمدہ واقعات میں حضرت حق جل مجدہٗ کی جانب سے خیرکے پہلو کو محورِ فکر بنایا جائے، کسی کی ذات کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے، پیش آمدہ واقعات میں تاریخی اعتبار سے تلبیس کرنا اخلاقِ حسنہ کے منافی ہے، ادارہ کی عظمت اور جماعت کی شیرازہ بندی کے لئے کوشش جاری رہے، لہٰذا اسی وصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب مدظلہٗ مہتم دارالعلوم وقف دیوبند نے فریقین میں صلح کی غرض سے ۲۰۰۶ء میں تمام ذاتی اغراض و مفادات سے بالا تر ہو کر ایک فارمولہ بروئے عمل لائے اور بحمداللہ وبفضلہ فریق ثانی کی جانب سے حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ نے اس کا خیر مقدم فرماتے ہوئے ان ناگفتہ بہٖ حالات کے نتیجہ میں پیدا شدہ جماعتی خلیج کو ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، بہر دو حضرات اکابر نے اس حقیقت پر اتفاق فرمایا کہ جو کچھ پیش آیا وہ تکوینی فیصلہ تھا، لیکن اب جب کہ دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم وقف دیوبند اپنی اپنی جگہ ایک مسلّم حقیقتیں ہیں اور اپنی اپنی جگہ عظمت و شہرت کی حامل ہیں تو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اختلاف کے بجائے اتفاق کی وراثت کیوں نہ دے کر جائیں۔ اس عمل خیرمیں اخلاف کے لئے یہ سبق مضمر ہے کہ واقعاتی بنیاد پر اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، لیکن اگر ذاتی اغراض و مفادات سے بالا تر ہو کر اجتماعی نقطۂ نظر سے اخلاص قلب اور للہیت کو اپنے فکر کا محور بنا کر کوشش کی جائے تو پچیس سال کے الجھے ہوئے مسائل کو حل ہونے میں پچیس منٹ بھی نہیں لگتے۔ آج بحمداللہ یہ چشمۂ فیض علم دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم وقف دیوبند کی شکل میں دو دھاروں میں جاری ہے۔
حق تعالیٰ جل مجدہٗ حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نوراللہ مرقدہٗ بانی دارالعلوم دیوبند کے آفاقی فکر قاسمیت سے وابستہ دونوں اداروں کی شرور و فتن سے حفاظت فرمائیں اور بہر دو جانب اربابِ حل و عقد و وابستگان ادارہ کو اخلاص نیت و قلب کی دولت بے بہا سے سرفراز فرمائیں، آمین یا رب العالمین