35 views
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ ۔
اس حدیث کی مکمل اور مفصل تشریح پیش کریں ۔
من حافظ علی ھٰؤلاءِ الصلوات المکتوبات لم یکتب من الغافلین۔
( رواہ ابن خزیمہ فی صحیحہ ، ۱۸۰\۲ )
(۱) غافلین میں شمار یا نہ لکھا جانے سے یہاں کیا مراد ہیں ؟
(۲) احادیث میں جہاں بھی حافظ آتا ہیں ، یعنی پابندی یا مداومت ، تو اس سے مراد کس طرح کی مداومت ہوتی ہیں ؟ ویسے ہی یقیمون الصلوٰۃ کی تشریح کیا ہیں ؟
براہِ کرم مدلل جواب جلد از جلد ارسال فرمائیں ۔
جزاک اللہ خیراً ۔
المستفتی : زکریا ، مہاراشٹر ۔
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ ۔
asked Jan 6 in حدیث و سنت by Zakriya Mulla

1 Answer

Ref. No. 2464/45-4468

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ ۔ غافلین سے مراد یہاں  یہ ہے کہ ان کو  اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل شمار نہیں کیا جائے گا۔

قال العلامة العيني: قوله لم تكتيب من الغافلين أي الغافلين عن ذكره الله‘‘ (شرح سنن ابي داؤد للعيني: ج 5، ص: 303)

محافظت سے مراد اوقات نماز کی حفاظت، نماز کے ارکان وشرائط کی حفاظت اور مساجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کا دوام مراد ہے۔

(٣) یقیمون الصلاۃ: ابن کثیر کی تفسیر میں ہے: نماز قائم کرتے ہیں سے مراد فرض نمازوں کو کامل رکوع وسجدے ،تلاوت اور خشوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں یہ ابن عباس کی تفسیر ہے، مقاتل بن حبان نے تفسیر کی ہے اوقات کی حفاظت کرنا، کامل طور پر وضو کرنے، مکمل رکوع، سجدہ، تلاوت قرآن، تشہد ،حضورﷺ پر درود وغیرہ پڑھنا اقامت صلاۃ ہے۔

وقال مقاتل بن حبان: المحافظة علي اقامة واسباغ الطهور فيها وتمام ركوعها وسجودها وتلاوة القرآن فيها والتشهد والصلاة علي النبي فهذا اقامتها‘‘ (تفسير ابن كثير: ج 1، ص: 168)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Feb 11 by Darul Ifta
...