60 views
قرآن کو تجوید سے پڑھنا فرض ہے یا واجب
کتنی تجوید سے قرآن پڑھنا لازم ہے ہر  کسی کیلے
کیا قرآن پڑھنےمیں غنہ اخفا مد پر باریک کی غلطی میں گناہ ملتا ہے کیا
قرآن پڑھنے میں رموز اوقاف کی رعایت لازم ہے ہر کسی کیلے
مد لازم اور مد متصل اور منفصل کی رعایت لازم ہے
قران سکھانے کا اہل کون ہے .کیا غیر حافظ یا ناظرہ خواں قرآن سکھانے کی اجازت ہے .قران سکھانے  والےکو کتنی تجوید آنی چاہے.
اگر کسی ناظرہ خواں کی مخرج درست نہ ہوں اور لہن جلی اور لہن خفی کی غلطی بھی( غنہ اخفا.قلقلہ ادغام) کرے اور یہ شخص دوسروں کو قرآن سکھاے تو کیا اسکو غلط سکھانے پر پکڑ یا گناہ ہو گا
  کیا نماز میں  ہر لہن جلی کی غلطی سےنماز فاسد ہوجاتی ہے
asked Jan 18 in قرآن کریم اور تفسیر by Humza ejaz

1 Answer

Ref. No. 2787/45-4458

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اتنی تجوید کہ ہر حرف دوسرے حرف سے ممتاز ہو جائے فرض عین ہے، بغیر اس کے نماز قطعاً باطل ہوگی ۔ ایسی غلطی جس سے لفظ تو نہ بدلے مگر اس کی خوبصورتی باقی نہ رہے مثلا غنہ، پُر اور باریک کی غلطی کرنا مکروہ ہے، اس سے ثواب میں کمی آتی ہے، رموز واوقاف کی رعایت بھی لازم ہے بعض صورتوں میں نماز فاسد ہونے کا اندیشہ ہے، مد کی دو بڑی اقسام ہیں مد اصلی اور مد فرعی، مد اصل لازم ہے اور مد فرعی کی ایک قسم مد متصل ہے اس کو مد واجب بھی کہا جاتا ہے، مد منفصل اور مد غیر لازم کے مستحسن ہونے پر قراء کااتفاق ہے، جو شخص جس قدر تجوید جانتا ہو اس قدر دوسروں کوسکھا سکتا ہے، اس کے لئے حافظ ہونا شرط نہیں ہے۔

جو خود تجوید کی رعایت نہ کرتا ہو حروف کی ادائیگی صحیح نہ کرتا ہو اس کے لئے دوسروں کو تعلیم دینا بھی درست نہیں ہے، اگر صحیح پڑھنے کی کوشش کرتا ہے اور سکھانے میں ادائیگی ٹھیک کرتا ہے تو  تعلیم کی اجازت ہے، اگر غلط سکھائے گا تو گنہگار ہوگا۔  ہر لحن جلی سے نماز فاسد نہیں ہوتی ہے اس لئے جو بھی صورت پیش آئے اس کا حکم معلوم کریں۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Feb 11 by Darul Ifta
...