29 views
السلام علیکم۔۔۔مسلئہ یہ پوچھنا تھا۔۔فیملی ممبر میں ایک لڑکی کو تین طلاق ھو چکی ھے انکی عمر 37 سال ھے اور طلاق انکو محرم الحرام کے مہینے میں ھوئی ھیں ۔۔طلاق کو تقریباً سات ماہ کا عرصہ ھو چکا ھے۔۔انھیں ھارمونز کا مسلئہ ھے جسکی وجہ سے حیض آنے میں مہینے مہینے لگ جاتے ھیں۔۔لیکن ماھواری (حیض) اب تک صرف ایک (1) بار ھوی ھے یہ بات یقینی ھے کہ انھیں حمل بھی نہیں ھے  ۔۔۔ کیا اب اس لڑکی کا نکاح کرسکتے ھیں یا نہیں۔۔۔ اسکانکاح اب جائز ھو گا یا نہیں۔۔۔ شرعی حوالہ کے ساتھ جواب دیجیے گا۔۔ اسکا جواب فتوی کی شکل میں دارالفتأ کی اسٹمپ کے ساتھ مل جاۓ تو مہربانی ھوگئ۔۔۔ شکریہ
asked Jan 28 in نکاح و شادی by hassan

1 Answer

Ref. No. 2810/45-4386

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر کسی عورت کو حیض آتاہے ، چاہے وہ چھ ماہ بعد آئے یا ایک سال بعد آئے وہ عورت ذوات الحیض میں سے ہے، اس کی عدت حیض سے ہی شمار ہوگی۔ یعنی اس کی عدت  مکمل تین ماہورایاں  گزرنے کے بعد ہی پوری ہوگی،اس صورت میں اس لڑکی کو چاہیے کہ کسی ماہر ڈاکٹر کے مشورہ سے بذریعہ علاج معالجہ یا جلدی ماہواری جاری کرنےکی دوا وغیرہ کھا کر مزید دو ماہوریاں گزار کراپنی عدت مکمل کرلے۔ مکمل عدت گزرنے کے بعد ہی اس کی دوسری جگہ شادی ہوسکتی ہے۔ 

"التي حاضت ثم امتد طهرها لا تعتد بالأشهر إلا إذا بلغت سن الإياس. وعن مالك انقضاؤها بحول وقيل بتسعة أشهر ستة لاستبراء الرحم (وثلاثة أشهر) للعدة ولو قضى به قاض نفذ.قال الزاهدي: وقد كان بعض أصحابنا يفتون به للضرورة خصوصًا الإمام والدي/ وفي (البزازية) والفتوى في زماننا على قول مالك في عدة الآيسة." (النہر الفائق شرح کنز الدقائق، کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج:2، ص:476، ط:دار الکتب العلمیة)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jan 31 by Darul Ifta
...