458 views
اسنوکر،بلیئرڈ،تاش،لوڈو،کیرم بورڈ،ویڈیو گیمز کھیلنے کے بارے میں شرعی احکام کیا ہیں؟ نیز درج بالا کھیلوں کے عدم جواز کا نفاذ اور غیر شرعی امور کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟مدلل جواب عنایت فرمائیں،
شکریہ۔
asked Feb 12, 2020 in کھیل کود اور تفریح by Muhammad Nasir

1 Answer

Ref. No. 41/1021

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ کھیل کے سلسلے میں شریعت کے بنیادی اصول یہ ہیں (١)جن کھیلوں کی احادیث و آثار میں ممانعت آگئی ہے وہ ناجائز ہیں جیسے نرد ،شطرنج کبوتر بازی اور جانوروں کو لڑانا (٢) جو کھیل کسی حرام و معصیت پر مشتمل ہوں وہ ا س معصیت یا حرام کی وجہ سے ناجائز ہوں گے (٣) جو کھیل فرائض اور حقوق واجبہ سے غافل کرنے والے ہوں وہ بھی ناجائز ہیں (٤)جس کھیل کا کوئی مقصد نہ ہو بلا مقصد محض وقت گزاری کے لیے کھیلا جائے وہ بھی ناجائز ہوگا کیوں کہ یہ اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو ایک لغو کام میں ضائع کرنا ہے ۔حضرت مفتی شفیع صاحب نے معارف القرآن میں لکھا ہےاوپر یہ بات تفصیل سے آچکی ہے کہ مذموم اور ممنوع وہ لہو اور کھیل ہے جس میں کوئی دینی یا دنیوی فائدہ نہیں جو کھیل بدن کی ورزش ، صحت اور تندرستی باقی رکھنے کے لیے یا کسی دوسری دینی و دنیوی ضرورت کے لیے یاکم از کم طبیعت کا تکان دور کرنے کےلیے ہوں اوران میں غلو نہ کیا جائے کہ انہی کو مشغلہ بنالیا جائے اور ضروری کاموں میں ان سے حرج پڑ نے لگے تو ایسے کھیل شرعا مباح اور دینی ضرورت کے نیت سے ہوں تو ثواب بھی ہے (معارف القرآن ٧/٢٥)کھیل کے سلسلے میں شریعت کی مذکورہ بالا اصول کو سامنے رکھ کر سوال میں مذکورہ کھیلوں کا جائز ہ لیا جاسکتاہے ۔سوال میں اسنوکر اور بلئیر کا تذکرہ ہے جس کی حقیقیت اور کیفیت کا علم نہیں ہے اس لیے اس کا حکم ذکر کرنے سے گریز ہے ۔تاش :کھیلنے کو فقہاء نے منع کیا ہے اس لیے کہ اس میں ایک تو تصاویر ہوتی ہیں اور بالعموم اس سے جوا کھیلا جاتا ہے، فساق و فجار کے کھیلنے کا معمول ہے، اسی طرح انہماک بھی غیر معمولی ہوتا ہے، اس لیے تاش کھیلنا ناجائز ہے ۔ہاش تعلیمی تاش جس میں حروف سے الفاظ بنائے جاتے ہیں جو بذات خود تعلیمی طور پر مفید ہے عام طور پر اس سے جوا نہیں کھیلا جاتا ہے اس لیے اگر اس میں بے جاانہماک نہ ہو تو جائز ہے ۔ کیرم بورڈ : اس کھیل میں بذات خود کوئی بات ناجائز نظر نہیں آتی ہے؛ البتہ اس میں بعض اوقات انہماک اتنا ہوجاتا ہے جو فرائض سے غافل کردیتا ہے ایسا انہماک بالکل ممنوع ہے البتہ جسمانی یا ذہنی تھکن دور کرنے کے لیے دوسرے ممنوعات سے بچتے ہوئے اگر کچھ وقت کے لیے کھیل لیا جائے تو گنجائش معلوم ہوتی ہے ۔ لوڈو :کا بظاہر وہی حکم ہے جو کیرم بورڈ ہے بشرطیکہ کوئی اور ممنوع چیزمثلا تصویر وغیرہ نہ ہو ۔ وڈیوگیمز: جدید کھیلوں میں اس کا رواج بہت بڑھ رہا ہے اصولی طور پر یہاں بھی کھیلوںکے مذکورہ شرائط کو ملحوظ رکھا جائے گا وڈیوگیمز میں اگر جاندار کی تصاویر ہوں تو یہ جائز نہیں ہے ۔اوراگر جاندار کی تصاویر نہ ہو بلکہ گاڑی یا جہاز کی تصاویر وغیرہ ہو اور صرف تفریح کے لیے کھیلا جائے تو ان شرائط کےساتھ جائز ہوگا (١) اس میں جوا شامل نہ ہو (٢) نماز ضائع نہ ہو (٣) حقوق العباد       پامال نہ ہوں (٤) پڑھائی اور ضرور ی کام متأثر نہ ہوں (٥) اسراف نہ ہو ۔ مذکورہ تمام کھیل مذکورہ شرائط کے ساتھ جائز ہیں لیکن عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ ان شرائط کی رعایت نہیں ہوپاتی ہےبلکہ بعض کھیل جنون کی حد تک پہنچ جاتے ہیں جیسے وڈیو گیمز وغیرہ  اس لیے گو اصولی طور پر یہ جائز ہیں لیکن اپنے نتیجہ کے اعتبار سے عدم جواز تک پہنچ جاتے ہیں اس لیے اس طرح کے کھیلوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ غیر شرعی امور کی روک تھام کیسے ممکن ہے اس کے لیے عرض ہے کہ جب انسان کے اندر شریعت کی عظمت و اہمیت پیدا ہوگی جب کی ان امور کی روک تھام ممکن ہے ہوسکتی ہے اس کے بغیر نہیں ۔ہاں لوگوں کو غیر شرعی امور سے بچانے کےلیے ضروری ہے کہ ان کے سامنے متبادل جائز کھیل کو پیش کیا جائے تو وہ غیر شرعی کھیلوں سے رک سکتے ہيں ۔قدمنا عن القهستاني جواز اللعب بالصولجان وهو الكرة للفروسية وفي جواز المسابقة بالطير عندنا نظر وكذا في جواز معرفة ما في اليد واللعب بالخاتم فإنه لهو مجرد وأما المسابقة بالبقر والسفن والسباحة فظاهر كلامهم الجواز ورمي البندق والحجر كالرمي بالسهم، وأما إشالة الحجر باليد وما بعده، فالظاهر أنه إن قصد به التمرن والتقوي على الشجاعة لا بأس به (قوله والبندق) أي المتخذ من الطين ط ومثله المتخذ من الرصاص (قوله وإشالته باليد) ليعلم الأقوى منهما ط (قوله والشباك) أي المشابكة بالأصابع مع فتل كل يد صاحبه ليعلم الأقوى كذا ظهر لي (قوله ومعرفة ما بيده من زوج أو فرد واللعب بالخاتم) سمعت من بعض فقهاء الشافعية أن جواز ذلك عندهم إذا كان مبنيا على قواعد حسابية مما ذكره علماء الحساب في طريق استخراج ذلك بخصوصه لا بمجرد الحزر والتخمين. أقول: والظاهر جواز ذلك حينئذ عندنا أيضا إن قصد به التمرن على معرفة الحساب، وأما الشطرنج فإنه وإن أفاد علم الفروسية لكن حرمته عندنا بالحديث، لكثرة غوائله بإكباب صاحبه عليه، فلا بقي نفعه بضرره كما نصوا عليه  فقط ۔

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Feb 18, 2020 by Darul Ifta
...