36 views
گرامی قدر حضرات مفتیان کرام،
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ!
عرض خدمت یہ ہیکہ آج کل معاشرے میں فحش گوئی عام ہوتی جارہی ہے- خصوصاً نجی مجالس میں بطور مذاق یا مزاح ہونے والی فحش گوئی یعنی ہمبستری اور جماع کی کیفیات پر مبنی فحش گفتگو کو ایک بڑی تعداد گناہ نہیں فقط مذاق سمجھتی ہے- بعض لوگ باقاعدہ فحش گوئی کیلئے مجالس منعقد کرتے ہیں- لہٰذا ارباب افتاء اس مسئلہ پر کیا فرماتے ہیں؟ کیا فحش گفتگو کیلئے مجالس منعقد کرسکتے ہیں؟ کیا اسلام میں عام یا نجی مجالس میں بطور مذاق فحش گوئی کی اجازت ہے؟ کیا بطور مذاق فحش گوئی گناہ نہیں ہے؟ کیا فحش گو سے تعلق رکھ سکتے ہیں؟ فحش گوئی کا انجام اور سزا کیا ہے؟ برائے کرم تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں!

فقط و السلام
بندہ محمّد فرقان عفی عنہ
(ڈائریکٹر مرکز تحفظ اسلام ہند)
asked Jun 11 in آداب و اخلاق by Mohammed Furqan

1 Answer

Ref. No. 936/41-71 B

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  بے حیائی اور بے شرمی کی باتوں سے اجتناب لازم ہے، اور جماع وغیرہ کی کیفیات کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے سے شریعت نے سختی سے منع کیا ہے۔ اس سلسلہ میں احادیث وارد ہیں اورایسے لوگوں کو  بدترین لوگ  کہاگیا ہے، اور جو لوگ اس گھناونی حرکت میں  مبتلا ہوں ، ان کو سمجھانا اور نہ ماننے کی صورت میں ان  سے دوری اختیار کرنا لازم ہے۔

عن أبي سَعيدٍ الخُدْريِّ رَضِيَ الله عنه قال: قال رَسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم: ((إنَّ مِن أشَرِّ النَّاسِ عندَ اللهِ مَنزِلةً يَومَ القيامةِ الرَّجُلَ يُفْضي إلى امرأتِه وتُفْضي إليه، ثمَّ يَنشُرُ سِرَّه)  (اخرجہ مسلم 1163) .

 عن أسماءَ بنتِ يَزيدَ رَضِيَ الله عنها: أنَّها كانت عندَ رَسولِ الله صلَّى اللهُ عليه وسلَّم والرِّجالُ والنِّساءُ قُعودٌ عِندَه، فقال: ((لعَلَّ رَجُلًا يقولُ ما يَفعَلُ بأهلِه، ولعلَّ امرأةً تُخبِرُ بما فعَلَت مع زَوجِها! فأرَمَّ القَومُ، فقُلتُ: إي واللهِ يا رَسولَ اللهِ، إنهُنَّ لَيَقُلْنَ، وإنَّهم لَيَفعَلونَ! قال: فلا تفعَلوا؛ فإنَّما مَثَلُ ذلك مَثَلُ الشَّيطانِ لَقِيَ شَيطانةً في طَريقٍ فغَشِيَها والنَّاسُ يَنظُرونَ (اخرجہ احمد 1165)

إن من أشر الناس منزلة يوم القيامة الرجل يفضي إلى المرأة وتفضي إليه يعني بذلك الزوجة فيصبح ينشر سرها أو هي أيضا تصبح تنشر سره فيقول فعلت في امرأتي البارحة كذا وفعلت كذا والعياذ بالله فالغائب كأنه يشاهد كأنه بينهما في الفراش والعياذ بالله يخبره بالشيء السر الذي لا تحب الزوجة أن يطلع عليه أحد أو الزوجة كذلك تخبر النساء بأن زوجها يفعل بها كذا وكذا وكل هذا حرام ولا يحل وهو من شر الناس منزلة عند الله يوم القيامة فالواجب أن الأمور السرية في البيوت وفي الفرش وفي غيرها تحفظ وألا يطلع عليها أحدا أبدا فإن من حفظ سر أخيه حفظ الله سره فالجزاء من جنس العمل  (شرح ریاض الصالحین 4/827)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jun 18 by Darul Ifta
...