69 views
كیا فرماتے ہیں علماے كرام مفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ كے بارے میں:
    ایك شخص تقریبا دس سال پہلے جس وقت چودہ یا پندرہ سال كے عمر میں تھا ‏،اور غالبا بالغ ہوچكاتھا‏، لیكن صحیح معلوم نہیں۔ قسم اٹھالیا تھا كہ ( جس لڑكی یا عورت كو بھی لے لوں(شادی كرلوں) ایك-دو-تین اور ہزار طلاق ہے)
فارسی كے الفاظ (ہرزنی كہ  بگیرم (نكاح كنم)یک -دو- سہ و ہزار طلاق است)؛ اور وہ شخص كئے سال پہلے ایك لڑكی سے دو مرتبہ ایجاب وقبول كركے نكاح كرچكا ہے‏، اور اس وقت اس كے أولاد بھی ہیں۔
    كیا اس شخص كے نكاح صحیح ہوا ہے؟ یا كہ اس كے منكوحہ كو طلاق واقع ہوئی؟ اگر طلاق ہوئی ہے تو  كتنی طلاق واقع ہوئی ہے؟یا كہ اس كے بالغ نا بالغ ہونے میں شك ہونے كی وجہ سے كچھ اور حكم ہوگا؟اب وہ شخص كیا كرے‏؟   
براہ كرم  حكم شرعی بتلاكر ممنون عندالناس اور ماجور عنداللہ ہوں۔

المستفتی
(مولانا)جمال الدین جیحون
صوبہ سرپل/افغانستان7/10/41
asked Jul 14, 2020 in طلاق و تفریق by Hosamuddin ebady

1 Answer

Ref. No. 1023/41-192

الجواب وباللہ التوفیق 

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مسئولہ میں شادی کرتے ہی ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے۔ اب اگر وہ اس لڑکی کو رکھنا چاہتا ہے تو نکاح ثانی کرنا ضروری ہے۔ نکاح اول کافی نہ ہوگا۔ نیز چودہ سال کا لڑکا مراہق ہوتا ہے جو بالغ کے حکم میں ہے۔ اس لئے نکاح صحیح ہے۔

ان نکحتک فانت طالق وکذا کل امراۃ ویکفی معنی الشرط الا فی المعینۃ باسم او نسب او اشارۃ۔ (ردالمحتار زکریا دیوبند 4/594)

لان المراھق والمراھقۃ کل واحد منھما مشتھی کالبالغ والبالغۃ۔ (فتاوی عثمانی 4/410) (المحیط البرہانی 2/320)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Jul 21, 2020 by Darul Ifta
...