32 views
ایک خاتون کے شوہر کا آٹھ دس سال پہلے انتقال ہو گیا تھا - چونکہ وہ سرکاری ادارے میں ملازم تھے اس لئے ان کو  کچھ فنڈ  وغیرہ بھی ملے تھے - اس وقت اس خاتون کے ساس سسر زندہ تھے لیکن وہ پیسے خاتون نے خود ہی رکھ لئے کیونکہ اس وقت ان کو پیسوں کی ضرورت تھی - اس کے علاوہ ان کے شوہر کا ایک پلاٹ بھی تھا - اسی دوران ان کے سُسر کا انتقال بھی ہو گیا - اب وہ پلاٹ بھی بیچ دیا ہے اور خاتون کی ساس نے اپنے حصے کے پیسے لینے سے منع کر دیا ہے - تو وہ یہ جاننا چاہتی ہیں کہ ان کے سُسر جو کہ انتقال کر چکے ہیں تو ان پیسوں کا کیا کیا جائے جو کہ ان کے سُسر کے حصے آتے اگر وہ زندہ ہوتے ؟ کیا وہ پیسے اپنے شوہر کے بہن بھائیوں کو دے سکتی ہیں ؟ یا پھر سُسر کے نام پر خیرات کر دی جائے ؟ کیا ان کے شوہر کی وراثت میں بہن بھائیوں کا حصہ بھی بنتا ہے ؟
asked Jul 23, 2020 in احکام میت / وراثت و وصیت by azhad1

1 Answer

Ref. No. 1038/41-266

الجواب وباللہ التوفیق     

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  خاتون کے شوہر  کی کل جائداد کواولاً  48/حصوں میں تقسیم کریں گے جن میں سے 6/حصے خاتون یعنی بیوی کو ملیں گے، آٹھ آٹھ حصے ماں باپ  میں سے ہر ایک کو ملیں گے۔ اور ہر ایک بیٹے کو 13 حصے ملیں گے۔  پھر جو کچھ باپ کو ملا ہے  اس کو اس کی جائداد میں شامل کرکے  کل جائداد کو اس کی اولاد میں تقسیم کریں گے ، اس طور پر کہ مرحوم  سسرکی بیوی (خاتون کی ساس) کو  آٹھ میں سے ایک حصہ ملے گا، اور باقی سات حصے اس کی اولاد میں لڑکوں کو دوہرا اور لڑکیوں کو اکہرا حصہ دے کر تقسیم کریں گے۔ اولاد کی موجودگی میں بھائیوں کا حصہ نہیں ہوتا ہے۔ نیز  انتقال کے وقت جو کچھ آدمی کی ملکیت میں ہے  بینک میں  موجود رقم ہو  یاسونا چاندی اور  زمین وغیرہ ہو سب وراثت میں تقسیم ہوگا۔ البتہ شوہر کے انتقال کے بعد جو سرکار ی کی طرف سے بیوی کو ملتا ہے اس پر بیوی کا حق ہے اس کو شوہر کی وراثت میں تقسیم نہیں کیا جائے گا۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Aug 13, 2020 by Darul Ifta
...