18 views
کرونا -19 لاکون کے دوران ، حکومت نے بین الاقوامی پروازیں باندھ رکھی تھیں اور جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ باہر کے دیسو میں پھنس چکے تھے ، تب حکومت نے ان پھنسے ہوئے لوگوں کو واپس کرنے کے لئے کچھ خصوصی پروازیں چلائیں تھیں ، لیکن مجبوری کا فائدہ اٹھایا جس کا کرایہ وہ 15000 / - روپے تھا ۔وہ 28000 / - یعنی 13000 / - روپے زیادہ رکھتے تھے۔ سوال یہ ہے کہ اگر میں نے اس وقت اپنے اچھے پیسے کا استعمال کرتے ہوئے 13000 / - کی ادائیگی کی تھی ، تو کیا میں اب سود کی رقم سے 13000 / - کی تلافی  کرسکتا ہوں؟ کیونکہ  کسی نے مجھے  بتایا کہ جو پیسہ بنایا گیا تھا اس کا فائدہ اٹھا کر زبردستی  لیا گیا؟
asked Feb 15 in زکوۃ / صدقہ و فطرہ by zaidin

1 Answer

Ref. No. 1318/42-687

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  وقتی طور پر سرکار نے جو کرایہ بڑھایا، اور آنے کی اجازت دی اس کا آپ نےفائدہ اٹھایا۔ اس میں جو کچھ خرچ کئے وہ آپ کے ذاتی پیسے خرچ ہوئے۔  سود کی رقم آپ کی ذاتی رقم نہیں ہے، اس لئے سودی رقم کو اس میں لگانا یا سودی رقم سے اس کی تلافی کرنا جائز نہیں ہے۔ سود کی رقم غریبوں پر بلا نیت ثواب صدقہ کرنا لازم ہے۔ اس سے کسی طرح استفادہ جائز نہیں ہے۔

ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه (شامی  فصل فی البیع 6/385)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Feb 17 by Darul Ifta
...