23 views
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته،  کچھ پیسے مدرسہ میں دینے سے قبل یہ نیت  تھی کے زکواة ہے لیکن جب پیسے وصول کرتے وقت مولانا نے پوچھا کے یہ عطیہ ہے یا زکواة، تو زکواة کہتے شرم  آئ، تو میں نے کہہ دیا کے عطیہ ہے
..
اسطرح کے معملات میں ہماری رہنمائ فرمائے. چونکہ زکواة کے بارے میں مشہور ہے کے لوگوں کے مالوں کا میل ہے اسلئے مدرسہ میں یہ کہتے شرم آئ کے یہ زکواة ہے کیونکہ قرآن و حدیث پڑھنے والوں  کو مالوں کا میل کیسے دیا جائے..
asked Feb 26 in زکوۃ / صدقہ و فطرہ by Mohammed

1 Answer

Ref. No. 1337/42-721

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ زکوۃ کی رقم مدرسہ میں دیتے وقت وضاحت کے ساتھ بتادینا ضروری ہے کہ یہ زکوۃ کی رقم ہے۔ اس لئے کہ مدرسہ میں کچھ مصارف ایسے ہیں کہ ان میں زکوۃ کی رقم صرف نہیں کی جاسکتی ورنہ دینے والے کی زکوۃ ادا نہیں ہوگی۔ زکوۃ مالدار کے لئے میل کچیل ہے مگر غریب اور مستحق  طلبہ کے لئے وہ ایک صاف ستھرا اور حلال مال ہے۔ اس لئے آئندہ جب بھی زکوۃ کی رقم کسی مدرسہ میں دیں تو زکوۃ ہی کہہ کر دیاکریں۔ تاہم اگر آپ کسی مستحق کو زکوۃ کی رقم براہ راست دیں تو اس کو ہدیہ کہہ کردینا چاہئے تاکہ اس کو شرمندگی نہ ہو۔ اور اس طرح زکوۃ بھی ادا ہوجائے گی۔

ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه (ھندیۃ، الباب السابع فی المصارف 1/188) وتبدل الملك بمنزلة تبدل العين وفي الحديث الصحيح «هو لها صدقة ولنا هدية» (شامی 2/342)

 واللہ اعلم بالصواب

کتبہ محمد اسعد

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 2 by Darul Ifta
...