11 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ جی حضرت! کسی صاحب نے نذر (منت) مانا کہ میرا یہ کام ہو جائے تو میں مزار میں فلاں چیز دونگا۔ تو نذر پوری کرنے کے لئے قریب میں مزار نہیں ہے، تو کیا وہ صاحب نذر پوری کرنے کے لئے مسجد میں وہ چیز دے سکتے ہیں؟ یا پھر کیا حکم ہوگا؟
asked Mar 8 in بدعات و منکرات by azhad1

1 Answer

Ref. No. 1355/42-758

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر کوئی جائز کام کی نذر ہو تو ٹھیک ہے اور یہ در اصل وقف کرنے کی نذر ہے ، اس لئے مسجد میں بھی وہ چیز دی  جاسکتی ہے۔  لیکن اگر چادر چڑھانے وغیرہ کی نذر ہے تو نذر منعقد نہیں ہوگی اور جوکچھ مسجد میں بطور صدقہ دینا چاہے دے سکتاہے۔

ولذا صححوا النذر بالوقف لأن من جنسه واجبا وهو بناء مسجد للمسلمين كما يأتي مع أنك علمت أن بناء المساجد غير مقصود لذاته (شامی، کتاب الایمان 3/735) (ومنها ) أن يكون قربةً فلايصح النذر بما ليس بقربة رأسا كالنذر بالمعاصي بأن يقول : لله عز شأنه علي أن أشرب الخمر أو أقتل فلاناً أو أضربه أو أشتمه ونحو ذلك؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: { لا نذر في معصية الله تعالى}، وقوله : عليه الصلاة والسلام: { من نذر أن يعصي الله تعالى فلايعصه }، ولأن حكم النذر وجوب المنذور به، ووجوب فعل المعصية محال، وكذا النذر بالمباحات من الأكل والشرب والجماع ونحو ذلك لعدم وصف القربة لاستوائهما فعلاً وتركاً (بدائع الصنائع 5/82)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Mar 13 by Darul Ifta
...