20 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ہمارے یہاں قربانی کے وقت  جب جانور ذبح کرتے ہیں تو گردن پر چھری پھیرنے پہلے جانور کو باندھ کر جے سی بی مشین کے ذریعے گڈھا کھود کر اس گڈھے کے پاس جانور اسی مشین کے ذریعے رککھتے ہیں تاکہ ذبح کرنے میں آسانی سے قابو میں رہے جب جانور ٹھنڈا ہوجاتا ہے تو اسکو جے سی بی مشین کے ذریعے تھوڑا سا اٹھا کر اس جگہ منتقل کرتے ہیں جہاں اسکی کھال اتارنی ہے اور گوشت بنانا ہے یعنی صرف گردن کٹی ہوتی ہے اسی حالت میں اٹھاتے ہیں اور سائے وغیرہ میں رکھ دیتے ہیں.. تو کیا آسانی کے پیش نظر ایسا کر سکتے ہیں؟
asked Jul 10 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1501/42-981

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔بڑے جانور کو اگر قابو میں کرنا مشکل ہو تو آسانی کے لئےجے سی بی کا استعمال  کرنے کی گنجائش ہوگی، البتہ احترام پورا ملحوظ رہے اور  اس کا خیال رکھا جائے کہ کسی طرح توہین  کی شکل پیدا نہ ہو، اور جانور کو بلاوجہ کی کوئی تکلیف بھی  نہ ہو۔  

والذبح ما أعد للذبح وقد صح أن النبي عليه الصلاة والسلام نحر الإبل وذبح البقر والغنم إن شاء نحر الإبل في الهدايا قياما أو أضجعها وأي ذلك فعل فهو حسن والأفضل أن ينحرها قياما لما روي أنه عليه الصلاة والسلام " نحر الهدايا قياما " وأصحابه رضي الله عنهم كانوا ينحرونها قياما معقولة اليد اليسرى " ولا يذبح البقر والغنم قياما " لأن في حالة الاضطجاع المذبح أبين فيكون الذبح أيسر والذبح هو السنة فيهما.(الھدایۃ، باب الھدی 1/182)

قال: ويستحب أن يحد الذابح شفرته لقوله - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -: «إن الله كتب الإحسان على كل شيء، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة، وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته» ويكره أن يضجعها ثم يحد الشفرة؛ لما روي «عن النبي - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - أنه رأى رجلا أضجع شاة وهو يحد شفرته فقال: " لقد أردت أن تميتها موتات هلا حددتها قبل أن تضجعها» (البنایۃ شرح الھدایۃ، الذبح باللیطۃ 11/560)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jul 15 by Darul Ifta
...