142 views
السلام علیکم و رحمة الله و بركاته
بعض لوگ، جو کہتے ہیں کہ وہ قرآن شریف سے علاج کرتے ہیں، مریض سے ماں کا نام اور گھر کا پتہ پوچھتے ہیں اور اگلے دن آنے کہتے ہیں. پھر اگلے دن کہتے ہیں کہ آپ پر سخت جادو ہے وغیرہ وغیرہ..
کیا یہ استعانت بغیر الله میں شمار ہوگا اور اسطرح کرنے والوں کے پاس علاج کرانا جائز ہوگا؟ .. جزاکم الله خیرا
asked Aug 10, 2021 in بدعات و منکرات by Mohammed

1 Answer

Ref. No. 1531/43-1033

الجواب وباللہ التوفیق

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ علم الاعداد حروف ابجد کا ایک علم ہے جوقدیم زمانہ سے چلا آرہاہے۔ قرآنی آیات یا اسماء حسنی وغیرہ  کے اعداد نکالنا درست  ہے اور اکابر کے تجربہ سے ثابت ہے۔  اور کسی مریض کے احوال معلوم کرنے میں اس سے مدد لینا بھی معروف ہے، البتہ اس علم سےمستقبل میں پیش آنے والی  غیب کی خبریں جاننے کا دعوی کرنا غلط ہے۔ جو کچھ اس علم سے احوال معلوم ہوتے ہیں وہ ظنی ہیں، ان پر مکمل یقین نہیں کیاجاسکتاہے۔ اس میں غلطی کا امکان بہرحال رہتاہے، تاہم اس کو علم غیب سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ایک اندازہ ہوتاہے اور اس کے مطابق تعویذ و رقیہ کے ذریعہ اس کا علاج کیاجاتاہے۔ اور تعویذ ورقیہ کی شریعت میں اس شرط کے ساتھ اجازت ہے کہ اس میں شرکیہ کوئی بات نہ ہواور عقیدہ کے فساد کا سبب نہ بنے۔ اس لئے ایسے عامل سے علاج  کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے جو  متبع سنت ہو اور شرکیہ کلمات سے بچتے ہوئے قرآن و حدیث سے علاج کرتاہو۔

’’ عن عوف بن مالك الأشجعي، قال: كنا نرقي في الجاهلية، فقلنا: يا رسول الله كيف ترى في ذلك؟ فقال: «اعرضوا علي رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك»‘‘. صحیح مسلم، (4/ 1727، رقم الحدیث: 2200، باب لا باس بالرقی مالم یکن فیہ شرک، ط: دار احیاء التراث العربی)

’’ذكر مالك في " موطئه ": عن زيد بن أسلم: ( «أن رجلاً في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم أصابه جرح، فاحتقن الجرح الدم، وأن الرجل دعا رجلين من بني أنمار، فنظرا إليه، فزعما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لهما: " أيكما أطب"؟ فقال: أو في الطب خير يا رسول الله؟ فقال: " أنزل الدواء الذي أنزل الداء (ففي هذا الحديث أنه ينبغي الاستعانة في كل علم وصناعة بأحذق من فيها فالأحذق، فإنه إلى الإصابة أقرب‘‘.(زاد المعاد  فی ھدی خیرالعباد، ص:781، فصل في هديه صلى الله عليه وسلم في الإرشاد إلى معالجة أحذق الطبيبين، دار الفکر بیروت)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Aug 18, 2021 by Darul Ifta
...