137 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک شخص نے مقامی مرکز میں دعا کے دوران یہ کہا کہ یااللہ ہماری دعا کو مولانا سعد کے صدقے و طفیل میں قبول فرما"کیا یہ درست ہے اس طرح دعا مانگ سکتے ہیں؟؟
asked Sep 17, 2021 in بدعات و منکرات by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 1609/43-1315

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔

الجواب وباللہ التوفیق:۔ بزرگان دین،و اولیائے کرام اور دیگر نیک وپرہیزگار بندوں کے وسیلہ سے اللہ تعالی سے دعا کرنے کی گنجائش ہے ۔  مثلاً یوں کہے: اے اللہ! اپنے اولیا کے طفیل یا فلاں بزرگ کے طفیل میری دعا قبول فرما،  اس طرح وسیلہ سے دعا کی جاسکتی ہے، البتہ  کسی خاص نام کے ساتھ دعا میں وسیلہ اسی کو بنایاجائے جس کے بارے میں عنداللہ مقبولیت کا یقین ہو۔  عنداللہ مقبولیت کسی  کے سلسلہ میں معلوم نہیں ، اس لئے مطلقا دعا کی جائے کہ یا اللہ اپنے بزرگ اور پرہیزگار بندوں کے طفیل میری فلاں ضرورت پوری فرما وغیرہ۔ بہرحال  صورت مسئولہ میں  اس طرح نام کے ساتھ وسیلہ اختیار کرنا درست  نہیں؛اس سے احتراز کیا جائے۔ کسی کی عقیدت میں غلو کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر یہ طریقہ جاری رکھاگیا تو اندیشہ ہے کہ آئندہ چل کر وسیلہ  درمیان سے ساقط ہوجائے اور براہ راست اسی بزرگ سے دعا کی جانے لگے اور اسی کو مشکل کشا سمجھاجانے لگے جیسا کہ بیشتر مزارات کی تاریخ بہت افسوس ناک ہے۔

وبعد هذا كله أنا لا أرى بأسا في التوسل إلى الله تعالى بجاه النبي صلّى الله عليه وسلّم عند الله تعالى حيا وميتا - - - - إلهي أتوسل بجاه نبيك صلّى الله عليه وسلّم أن تقضي لي حاجتي، إلهي اجعل محبتك له وسيلة في قضاء حاجتي، ولا فرق بين هذا وقولك: إلهي أتوسل برحمتك أن تفعل كذا إذ معناه أيضا إلهي اجعل رحمتك وسيلة في فعل كذا، ۔ ۔ ۔ أن التوسل بجاه غير النبي صلّى الله عليه وسلّم لا بأس به أيضا إن كان المتوسل بجاهه مما علم أن له جاها عند الله تعالى كالمقطوع بصلاحه وولايته، وأما من لا قطع في حقه بذلك فلا يتوسل بجاهه لما فيه من الحكم الضمني على الله تعالى بما لم يعلم تحققه منه عز شأنه،(تفسیر الآلوسی – روح المعانی سورۃ المائدۃ 27 3/297)

وأما التوسل بالصالحین فمنہ ما ثبت فی الصحیح أن الصحابة استسقوا بالعباس رضي اللہ عنہ․ وقال عمر رضی اللہ عنہ: اللہم إنا نتوسل إلیْک بعم نبینا (فتاوی رشیدیہ 142)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Nov 4, 2021 by Darul Ifta
...