130 views
Ref. No. 820

میں ایک ضروری مسئلہ دریافت کرنا چاھتا ھوں

میں نے کئ مرتبہ تبلیغی حضرات کو یہ کہتے ہوے سنا کہ "حدیث میں آتا ھے کہ جو شخص اس دنیا سے رائ کے دانے کے برابر بھی ایمان بچا کر لیجایٔگا اللہ تعالی اسے اس دنیا سے دس گنا بڑی جنت عطا فرمائںگے"

ایک مرتبہ میں بھی جماعت میں تھا تو ھمارے ایک ساتھی نے بھی یہ حدیث بیان کردی۔
جسپر ایک صاحب کہنے لگے کہ یہ حدیث نہیں  ھے ۔ یہ تو تبلیغ والے ایک دوسرے کی سنا سنی بیان کرنے لگے۔

اب براۓ کرم مسٔلہ حل فرمایںٔ کہ کیا واقعی یہ حدیث نہیں ھے.؟ یا حدیث تو ھے پر "دس گنا" کی قید نہیں.؟ یا یہ کسی صحابی وغیرہ کی تحقیق(قول) ھے.؟
یا واقعی حدیث ھے.؟
اگر حدیث ھے تو براۓکرم کتاب کا حوالہ دیں۔  اور ساتھ ہی راوی کا نام بھی بتا دیں ۔
asked Sep 14, 2015 in Hadith & Sunnah by umarx0431

1 Answer

Ref. No. 820 Alif

الجواب وباللہ التوفیق                                                                                           

بسم اللہ الرحمن الرحیم-:  مندرجہ ذیل حدیث میں ادنی درجہ کے جنتی کو دس گنا بڑی جنت ملنے کی صراحت موجود ہے۔

عن عبدالله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم – ((إني لأعلم آخر أهل النار خروجاً منها، وآخر أهل الجنة دخولاً الجنة: رجل يخرج من النار حبواً، فيقول الله له: اذهب فادخل الجنة فيأتيها، فيخيل إليه أنها ملأى، فيرجع فيقول: يا رب، وجدتها ملأى، فيقول الله عز وجل: اذهب فادخل الجنة فإن لك مثل الدنيا، وعشرة أمثالها أو إن لك مثل عشرة أمثال الدنيا، فيقول: أتسخر بي – أو أتضحك بي – وأنت الملك؟ قال: فلقد رأيت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ضحك حتى بدت نواجذه، فكان يقال: ذلك أدنى أهل الجنة منزلة)) أخرجه البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول خداﷺ نے فرمایا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں جو سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا اور سب سے آخر میں جنت میں جائے گا۔ یہ ایک ایسا شخص ہو گا جو اوندھے منہ دوزخ سے نکلے گا۔ پھر اللہ اس سے فرمائے گا کہ جا کر جنت میں داخل ہو جا۔ پس وہ جنت کے پاس آئے گا تو اس کا یہ خیال ہو گا کہ یہ تو بھری ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ واپس لوٹ جائے گا اور عرض کرے گا کہ اے میرے رب میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا اس پر اللہ تعالی فرمائے گاجا کر جنت میں داخل ہو جا۔پھر وہ اس کی طرف آئے گا تو اسے یہی خیال گزرے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ پس وہ جا کر پھر عرض کرے گا کہ اے میرے رب میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا اس پر اللہ تعالی (تیسری بار)فرمائے گا کہ جا کر جنت میں داخل ہو جا،تیرے لیے تو وہاں دنیا کے برابر جگہ ہے اور اس سے دس گنا زیادہ ہے۔(اس یقین نہ آئے گا اور وہ سمجھے گا کہ شاید اس سے مذاق کیا جا رہا ہے ) چنانچہ وہ عرض کرے گا کہ اے خدا تو بادشاہ ہو کر مجھ سے مذاق کر رہا ہے (اس حدیث کے راوی بتاتے ہیں کہ) پھر میں نے رسول خداﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ہنسے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ (راوی یہ بھی بتاتے ہیں کہ )کہا جاتا تھا کہ یہ شخص اہل جنت میں سب سے کم رتبے والا ہو گا۔  

واللہ اعلم بالصواب  

 

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

answered Nov 24, 2015 by Darul Ifta
...