29 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عشر ادا کرنے کے لئے کٹائی کے اخراجات منہا کیے جائیں گے یا نہیں ؟

اور ٹھیکہ دار عشر ادا کرتے وقت ٹھیکہ کی قیمت منہا کرے گا یا نہیں ۔؟
مفتیان کرام رہنمائی فرما دیں ۔۔
asked Jun 27 in فقہ by Hafizali99

1 Answer

Ref. No. 1893/43-1785

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔   وہ اخراجات جوپیداوار حاصل کرنے کے لئے زراعت کے امور میں سے ہوتے ہیں، وہ اخراجات عشر ادا کرنے سے پہلے منہا نہیں کیے  جائیں گے۔البتہ  پیداوار تیار ہونے کے بعد اس کی کٹائی اور اس کے بعد پیداوار کو منڈی تک پہنچانے وغیرہ کے اخراجات عشر ادا کرنے سے پہلے منہا کیے  جاسکتے   ہیں ۔

ٹھیکے پر لینے کی صورت میں اگر کل پیداوار ٹھیکے دار کی ہوگی تو اسی پر عشر ادا کرنا لازم ہوگا، اور اس میں وہی تفصیل ہے جو ابھی بیان ہوئی، اور ٹھیکہ چونکہ امورزراعت میں سے نہیں ہے، ،اس لئے ٹھیکہ کی قیمت منہا کی جائے گی۔  زمین کے مالک پر بصورت تکمیل نصاب، زکوۃ واجب ہوگی۔

"إذا كانت الأرض عشريةً فأخرجت طعاماً وفي حملها إلى الموضع الذي يعشر فيه مؤنة فإنه يحمله إليه ويكون المؤنة منه) الفتاویٰ التاتارخانیہ, کتاب العشر،الفصل السادس  فی التصرفات فیما یخرج من الارض،  ج: 3، صفحہ:292،  ط:   زکریا(

قبل رفع مؤن الزرع) بضم الميم وفتح الهمزة جمع المؤنة وهي الثقل والمعنى بلا إخراج ما صرف له من نفقة العمال والبقر وكري الأنهار وغيرها مما يحتاج إليه في الزرع..." الخ) مجمع الأنہر 1 / 216، باب زکاۃ الخارج، ط: دار احیاء التراث العربی(

'' والعشر على المؤجر كخراج موظف، وقالا: على المستأجر كمستعير مسلم۔ وفي الحاوي : وبقولهما نأخذ……..

 (قوله: وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق وقال: حتى تفسد الإجارة باشتراط خراجها أو عشرها على المستأجر كما في الأشباه، ۔۔۔۔۔۔ فإن أمكن أخذ الأجرة كاملة يفتى بقول الإمام، وإلا فبقولهما لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لايقول به أحد''۔ (الدر المختار مع رد المحتار: کتاب الزکاة، باب العشر، فروع فی زکاة العشر(2/ 334)، ط: سعید(

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jul 3 by Darul Ifta
...