97 views
سوال: میں نے  اپنی بیوی کو اسکی بہن کے گھر جانے سے منع کیا تھا کہ  اگر تو اس کے گھر گئی تو میرے نکاح سے باہر ہو جائیگی،  اس بات کو کہے 6 مہینے گزر گئے اب وہ کئی بار چلی گئی تو کیا ہم نکاح سے باہر ہوگئے
asked Aug 7, 2022 in طلاق و تفریق by ABDUL RAHIM

1 Answer

Ref. No. 1959/44-1873

بسم اللہ الرحمن الرحیم: اگر مذکورہ جملہ  اسی طرح کہا تھا جیسا کہ بیان کیاگیاہے تو بہن کے گھر جانے پریمین پوری ہوگئی اور ایک طلاق واقع ہوگئی،اور عورت کی عدت شروع ہوگئی،  اب دوبارہ یا سہ بارہ بہن کے گھر جانے پر مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اس لئے اب اگر  شوہر نے عدت (طلاق کے بعد تین حیض)   کے زمانہ میں بیوی سے رجعت کرلی تو ٹھیک ہے ، اور اگر عدت گزرگئی تو اب  جدیدمہر کے ساتھ دوبارہ  نکاح کرنا ہوگا۔

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق۔"  )ہندیہ (كتاب الطلاق، الباب الرابع، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما 1 /420،ط:دار الفكر(

"فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها )الدر المختار وحاشية ابن عابدين،كتاب الطلاق،باب التعليق،مطلب زوال الملك لا يبطل اليمين،  3/ 355، ط: سعید(

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Aug 9, 2022 by Darul Ifta
...