110 views
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسٔلۂ ذیل کے بارے میں کہ:
قربانی کے جانور میں شریک سات شرکاء میں سے کچھ غنی (صاحب نصاب) اور کچھ فقیر (غیر صاحب نصاب) ہیں، اور ان کا وہ جانور گم ہو گیا، پھر ان تمام شرکاء نے مل کر دوسرا جانور خریدا، اتنے میں ایام قربانی سے قبل ہی وہ گم شدہ جانور بھی مل گیا، اور یہ بات معلوم ہے کہ انفرادی صورت میں فقیر پر دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہوتی ہے، جبکہ غنی کو اختیار ہوتا ہے، لیکن صورتِ مسئولہ میں بہ حالت مشارکت فقراء و اغنیاء کے لیے کیا حکم ہوگا؟ فقہی عبارتوں کے حوالے کے ساتھ حکم شرعی تحریر فرما دیں، اور اس سلسلے میں کوئی صریح فقہی جزیہ ہو یا جس فقہی قاعدے پر مبنی ہو اسے بھی ضرور تحریر فرما دیں۔
جزاکم اللہ أحسن الجزاء فی الدارین
asked Sep 3, 2022 in ذبیحہ / قربانی و عقیقہ by Aasif Ziya

1 Answer

Ref. No. 2018/44-1978

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مذکورہ میں دوسرے جانور کی قربانی کسی پر واجب نہیں ہے اس لیے کہ فقیر اگر ایام قربانی میں جانور خریدے تو وہ نذر کے حکم میں ہوتاہے اگر ایام قربانی سے پہلے خریدے تو نذر کے حکم نہیں ہوتاہے اس لیے کہ وہ پہلا جانور نذر کا نہیں ہے ۔فقیر کے جانور خریدنے کی صورت میں وہ مطلقا نذر کا ہوتاہے یا ایام نحر میں خریدنے کی صورت میں نذر کے حکم میں ہوتاہےاس میں حضرات فقہاء کی عبارت میں اختلاف ہے لیکن حضرات اکابر علماء دیوبندمثلا مفتی عزیز الرحمن ، مفتی محمد شفیع دیوبند اور حضرت مفتی محمود گنگوہی وغیرہم نے ایام نحر کو ہی ترجیح دی ہے اس لیے صورت مذکورہ میں راجح یہی ہے کہ پہلا جانورنذر کا نہیں ہے.

ووقع في التتارخانية التعبير بقوله شراها لها أيام النحر، وظاهره أنه لو شراها لها قبلها لا تجب(رد المحتار،کتاب الاضحیۃ،6/321)

 واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Nov 5, 2022 by Darul Ifta
...