272 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ملک میں اکثر ادراے انعامی مقابلہ یا مسابقہ منعقد کرتے ہیں، جس میں شامل ہونے والوں سے  رجسٹریشن فیس لی جاتی ہے اور پھر اول دوم سوم والے افراد کو انعام سے بھی دیا جاتا ہے ۔
کیا ایسے مسابقہ یا مقابلہ میں منعقد کروانا ٹھیک ہے ؟
اور ایسے مسابقہ میں شرکت کرنے والے کےلئے کیا حکم ہے۔؟
سائل
رحمت اللہ اشرفی
asked Sep 29, 2022 in ربوٰ وسود/انشورنس by Rahmat ullah

1 Answer

Ref. No. 2066/44-2057

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔  مسابقہ کے انعقاد کے اخراجات کے لئے فیس لینا جائز ہے البتہ فیس کے طور پر لئے گئے پیسوں کو انعام میں دینا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس میں قمار کی صورت پائی جاتی ہے، البتہ اگر  انعام دوسرے پیسوں سے  دیا جائے تو اس مسابقہ میں  شرکت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یعنی فیس کی رقم انعام کے لئے مشروط نہ ہو۔

القرآن الکریم: (المائدۃ، الایة: 90- 91)
یٰأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْأنْصَابُ وَالْأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطَانُ أَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضآءَ فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللہِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ، فَہَلْ أَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَo
روح المعاني: (694/2، ط: رشیدیة)
وفی حکم ذلک جمیع انواع القمار من النرد والشطرنج وغیرھما حتی ادخلوا فیه لعب الصبیان بالجوز والکعاب والقرۃ فی غیر القسمة و جمیع انواع المخاطرۃ والرھان وعن ابن سیرین کل شئی فیه خطر فھو من المیسر۔
فتح القدیر للشوکاني: (336/1)
المیسر میسران، میسر اللھو، میسر القمار، فمن میسر اللھو النرد، والشطرنج، والملاھی کلھا، ومیسر القمار ما یتخاطر الناس علیه، ای فیه مخاطرۃ الربح والخسارۃ بانواع من الالعاب وا لشروط ککل انواع القمار الموجودۃ والتی یمکن ان توجد۔
رد المحتار: (355/3، ط: سعید)
تعلیق التملیک علی الخطر والمال من الجانبیین۔

"معالم السنن "(2/ 255):
أما إذا سبق الأمير بين الخيل وجعل للسابق منهما جعلا أو قال الرجل لصاحبه إن سبقت فلانا فلك عشرة دراهم فهذا جائز من غير محلل،

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Oct 23, 2022 by Darul Ifta
...