71 views
السلام عليكم و رحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ شوہراور بیوی الگ الگ رہتےہیں کچھ مہینے بعد بیوی نے زبردستی کچھ دھمکی دیکر شوہر سے طلاق مانگا تو شوہر نے مجبواً mobile messages سےایسا لکھکر بیجھا { میں نے تم کو میرے بیٹی کی عمر دس سال پورا ہونے کے دن طلاق دےدیا } مطلب پہلے جملہ کو مستقبل دوسری جملہ کو حال اور شوہرکےدل میں بھی طلاق کی نیت نہیں ہے ابھی بیٹی کی عمر آٹھ سال کی ہے 
کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں اگر واقع ہوا تو اس طلاق سے پچنے کی کوئی صورت ہے ? براۓکرام مدلل جواب عنایت فرمائیں ,بہت بہت ضروری ہے
asked Nov 3, 2022 in طلاق و تفریق by muhammad luqman

1 Answer

Ref. No. 2091/44-2131

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ صورت مسئولہ میں بیٹی کی عمر جس دن دس سال کی ہوگی، اس دن آپ کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہوجائے گی۔ اور اس طلاق سے بچنے کی اب کوئی صورت نہیں ہے۔ ماضی کے لفظ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے اور مستقبل میں اگر کسی کام پر طلاق کو معلق کیاجائے گا ، شرط کے پائے جانے پروہ  طلاق واقع ہوجائے گی، لیکن ایک طلاق واقع ہوگی اگر پہلے  سے  طلاق نہیں دیا ہے  تو وقوع طلاق کے بعدعدت میں  رجوع کرسکتاہے  پھر آئندہ کے لئے طلاق دینے سے احتیاط کرے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Nov 15, 2022 by Darul Ifta
...