4 views
(۷۵)سوال:زید غیر اسلامی رسومات کا ارتکاب کرتا ہے مثلاً تلک وغیرہ لگاکر غیر مسلموں کے مذہبی میلہ میں جاتا ہے اور ہَون یگ کرتا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ ایک گڈھے میں آگ جلائی جاتی ہے اور آگ کے ارد گرد بیٹھ کر ایسے منتر پڑھے جاتے ہیں جو خالص غیر اسلامی ہیں اور ساتھ ساتھ آگ میں گھی اور میوے ڈالے جاتے ہیں اور یہ غیر مسلموں کے دعا کا خاص طریقہ ہے، اس طرح آگ کی پوجا کی جاتی ہے، شریعت زید پر کیا حکم لگاتی ہے؟
فقط: والسلام
المستفتی: وکیل احمد، جمنا نگر
asked Nov 22 in بدعات و منکرات by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:غیر اللہ کی پوجا جائز نہیں، بالکل حرام ہے اور غیر اللہ کی پوجا سے آدمی خارج از اسلام ہوجاتا ہے؛ لہٰذا بشرط صحت سوال اگر مذکورہ شخص نے ایسا کیا، تو وہ خارج از اسلام ہے، اس پر تجدید ایمان وتوبہ لازم ہے۔(۱)

(۱) یکفر بوضع قلنسوۃ المجوس علی رأسہ علی الصحیح -إلی- وبخروجہ إلی نیروز المجوس لموافقتہ معہم فیما یفعلون في ذلک الیوم۔ (جماعۃ من علماء الہند، الفتاویٰ الہندیۃ، ’’کتاب السیر: الباب التاسع: في أحکام المرتدین، موجبات الکفر أنواع، ومنہا: ما یتعلق بتلقین الکفر‘‘: ج ۲، ص: ۲۸۷)

لو وضع قلنسوۃ المجوسي علی رأسہ أو تزنربز نار النصاری أو ربط الصلیب یکفر، لو علق البائرۃ علی وسطخ لا یکفر۔ (أبو محمد، الفتاویٰ السراجیہ، ’’کتاب السیر: باب ألفاظ الکفر، فصل:‘‘: ج ۲، ص: ۳۱۰)

 

دار الافتاء

دار العلوم وقف دیوبند

 

answered Nov 22 by Darul Ifta
...