68 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک لڑکا حافظ قرآن ہے اور وہ ایک مسجد میں نماز پڑھاتا ہے جبکہ اس کے گھر کے حالات یہ ہیں کہ ان کے ایک چچا ہیں جو مخنث ہیں اور سب مل جل اکھٹے رہتے ہیں تو گھر کا خرچ کھانا پینا انہی کے پیسوں سے چلتا ہے اور یہ لڑکا بھی انکے پیسوں سے ہی کھاتا پیتا ہے کیونکہ اس کو ابھی کوئی تنخواہ نہیں ملتی ہے اور جو مخنث چچا انکی کمائی انکے معروف پیشے ناچ گانے سے ہوتی ہے
تو کیا اس لڑکی امامت ٹھیک ہے کیا اسکو امامت پر رکھنا درست ہے؛؟
asked Jan 31, 2023 in نماز / جمعہ و عیدین by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 2233/44-2362

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر مخنث کے حرام مال کے علاوہ کوئی حلال آمدنی نہیں ہے تو اس حرام آمدنی سے کھانا پینا جائز نہیں ہے۔ لڑکا خود کمانے کے لائق ہے تو اس کو اپنی کمائی کا نظام بنانا لازم ہے، اور گھر کے تمام افراد کو چاہئے کہ اس حرام آمدنی سے کھانا پینا بند کردیں ۔مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ اس امام کو اتنی تنخواہ مہیا کریں کہ جس سے وہ اپنی اور گھروالوں کی بنیادی ضرورت پوری کرسکے۔  اگر  یہ امام استطاعت کے باوجود حلال آمدنی کا کوئی ذریعہ  اختیار نہیں کرتا ہے تو حرام مال کھانے کی وجہ سے فاسق ہے، اور اس کی امامت مکروہ  تحریمی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Feb 5, 2023 by Darul Ifta
...