99 views
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ میں کہ:
ایک شخص بڑے پیمانے پر کوئی مکان تعمیر کرنا چاہتا ہے ، اور اس کے پاس تعمیری اخراجات سے کہیں زیادہ رقم بھی موجود ہے لیکن تعمیری اخراجات اس قدر ہیں کہ حکومت کی جانب سے اس پر(ٹیکس وغیرہ کے متعلق) باز پرس ہو سکتی ہے ،
لہذا حکومتی باز پرس سے بچنے کیلئے بینک سے لون لے اور پھر اس رقم کو تعمیری کاموں میں استعمال کیئے بغیر بینک کا لون ادا کر دے تاکہ حکومت یہ سمجھے کہ یہ مکان بینک سے لون لے کر بنایا گیا ہے اس کی ذاتی ملکیت بقدر ٹیکس نہیں ہے ، اور وہ حکومتی باز پرس سے بچ جائے ،
اس طرح کے حیلے کی خاطر بینک سےلون لینا از روئے شرع کیسا ہے جواب مرحمت فرمائیں نوازش ہوگی _
asked Feb 6, 2023 in ربوٰ وسود/انشورنس by Qasmi1381

1 Answer

 Ref. No. 2241/44-2410

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شرعا ایسا لون لینا جائز ہے جس میں سود نہ دینا پڑے، اور اس کی جو مدت بلاسود کے متعین ہو اس میں ادائیگی کردی جائے۔

﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ  وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللهِ وَرَسُوْلِه وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ أَمْوَالِكُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ وَإِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَة إِلٰى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْر لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾[البقرة : ۲۷۸ إلى ۲۸٠ ]

 ’’عن عبد اللّٰه بن حنظلة غسیل الملائکة أن النبي صلی اللّٰه علیه وسلم قال: لَدرهمُ ربًا أشد عند اللّٰه تعالٰی من ست وثلاثین زنیةً في الخطیئة‘‘. (دار قطني)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Feb 20, 2023 by Darul Ifta
...