111 views
.. زندگی/بیماری کا صدقہ مسجد یا مدرسے میں دیا جا سکتا ہے؟  2... زندگی/بیماری کا صدقہ  کسی غیر مسلم کو دیا جا سکتا ہے۔؟
3...کبھی کبھی راستہ میں مانگنے والے مل جاتے ہیں، کیا ان کو صدقہ دے سکتے ہیں۔ جبکہ ان کے بارے میں یہ نہیں معلوم کہ وہ مسلم ہے یا غیرمسلم، یا وہ غریب ہے بھی یا نہیں۔یا وہ اس کا غلط استعمال شراب یا جوا میں تو نہیں کرے گا، تو کیا ایسے لوگوں کو صدقہ دینے سے صدقہ ادا ہوجائے گا۔ سعید
asked Feb 9, 2023 in زکوۃ / صدقہ و فطرہ by Sayeed

1 Answer

Ref. No. 2250/44-2399

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جو صدقہ شریعت نے واجب کیا ہو یا آدمی نے خود اپنے اوپر منت یا نذر مان کر  واجب کیا ہو، وہ صدقہ صرف غریب مسلمانوں کا حق ہے، ایسا صدقہ غیرمسلم کو دینا یا مالدار مسلمان کو دینا جائز نہیں ہے، دینے سے پہلے اس کی تحقیق کرلینی چاہئے۔  اور یہ صدقہ مسجد یا خیراتی کاموں میں صرف کرنا بھی جائز نہیں ہے۔  اور جو صدقہ نفلی ہو یعنی آدمی اپنے کاروبار میں  برکت، بیماری سے شفا، کسی اہم کام میں سہولت وغیرہ کے مقصد سے اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرتاہے ، ایسا صدقہ غریب، امیر، مسلمان اور غیرمسلم کسی کو بھی دیاجاسکتاہے، اور مسجد میں اسی طرح دیگر اوقاف میں خرچ کرنا بھی جائز ہے۔ ظاہر حال سے اگر لگتاہے کہ وہ غلط کاموں میں نہیں لگائے گا، تو اس کو صدقہ دیا جائے اور اگر اس کی حالت سے غالب گمان یہ ہو کہ وہ شراب یا جوا میں صرف کرے گا تو اس کو صدقہ دینے سے احتراز کیا جائے۔

الھدایہ: (223/1، ط: مکتبہ رحمانیہ)
ولا یدفع المزکی زکوۃ مالہ الی ابیہ وجدہ وان علا ولا الی ولدہ وولد ولدہ وان اسفل۔
الجوھرۃ النیرہ: (باب فی بیان مصارف الزکوۃ)
لا تدفع الی غنی وفیھا ولا یدفع الی بنی ھاشم ولا فیھا ولا یدفع المزکی زکوتہ الی ابیہ وجدہ وان علا ولا الی ولدہ وان اسفل و فیھا۔۔۔۔۔ ولا یبنی بھا مسجد ولا یکفن بھا میت۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Feb 14, 2023 by Darul Ifta
...