124 views
عمیر کو لگا کہ وہ کاغذ پر طلاق کا لفظ طلاق کی نیت سے لکھے گا تو طلاق نہیں ہوگی اس نے طلاق کا لفظ یہ کہ کر لکھ دیا کہ عمیر کی طلاق کی نیت ہے جبکہ وہ دل سے چاہتا تھا کہ عمیر کی طلاق نہ ہو تو کیا کہیں گیں کہ عمیر کی طلاق کی نیت نہ تھی کیونکہ وہ طلاق چاہتا ہی نہ تھا.
asked Feb 14, 2023 in نکاح و شادی by Hassaan

1 Answer

Ref. No. 2259/44-2425

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ جس طرح زبان سے طلاق دینے سے  طلاق واقع ہو جاتی ہے اسی طرح لکھ کر طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے؛ نیزاپنی بیوی کو طلاق  دینے کے لئے بیوی کی جانب نسبت کرکے طلاق بولنا یا لکھنا ضروری ہے، اگر صرف کاغذ پر لفظ 'طلاق' لکھا اور بیوی کی جانب کوئی نسبت نہیں کی تو محض کاغذ پر لکھنے سے لکھنے والے کی بیوی پر کوئی  طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ لہذا اگر لکھتے وقت طلاق کی نیت تھی  اور بیوی کی طرف نسبت بھی کیا تھاتو طلاق واقع ہوجائے گی۔ پھر یہ نیت کرنا کہ طلاق دوں اور طلاق واقع نہ ہو عبث ہے؛اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔

الفتاویٰ الہندیۃ (6 / 442):

"ثم الکتابۃ علیٰ ثلاثۃ أوجہٍ : مستبین مرسوم أي معنون وہو یجري مجری النطق في الحاضر والغائب علیٰ ما قالوا ، ومستبین غیر مرسوم کالکتابۃ علی الجدار وأوراق الأشجار ، وہو لیس بحجۃ إلا بالبینۃ والبیان ، وغیر مستبین کالکتابۃ علی الہواء والماء وہو بمنزلۃ کلام غیر مسموع ، فلا یثبت بہ الحکم ."

"عن حماد قال: إذا کتب الرجل إلی امرأته -إلی- أمابعد! فأنت طالق فهي طالق، وقال ابن شبرمة: هي طالق". (المصنف لابن أبي شیبة، کتاب الطلاق، باب في الرجل یکتب طلاق امرأته بیده، مؤسسة علوم القرآن ۹/۵۶۲، رقم: ۱۸۳۰۴)

فتاوی شامی میں ہے:

وإن كانت مرسومةً يقع الطلاق نوى أو لم ينو".

المحیط البرھانی: (274/3، ط: دار الکتب العلمیۃ)
يجب أن يعلم بأن الكتابة نوعان: مرسومة وغير مرسومة. فالمرسومة: أن تكتب على صحيفة مصدرا ومعنونا وإنها على وجهين: الأول: أن تكتب هذا كتاب فلان بن فلان إلى فلانة أما بعد: فأنت طالق. وفي هذا الوجه يقع الطلاق عليها في الحال. وإن قال: لم أعن به الطلاق لم يصدق في الحكم، وهذا لأن الكتابة المرسومة بمنزلة المقال.

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند
answered Feb 22, 2023 by Darul Ifta
edited Mar 7, 2023 by Darul Ifta
...