112 views
کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مین نے اپنی بیوی کو طلاق دی ہے اس الفاظ سے کہ جب بھی میرا نکاح تم ھوجائے تو تم مجھ پر طلاق ثلاثہ سے طلاق ہو تو کیا اب میرے لئے اس بیوی سے نکاح کا کوئی راستہ ہےحیلہ کے علاوہ اگر ہے تو تحریر فرماکر مشکور فرمائے العارض فرید احمد
asked Feb 14, 2023 in طلاق و تفریق by سید مصباح اللہ

1 Answer

Ref. No. 2261/44-2424

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ اگر مذکورہ جملہ کہتے وقت بیوی نکاح میں تھی اور اس جملہ سے پہلے طلاق نہیں دی گئی تھی تو اس جملہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اس لئے نکاح تو پہلے ہوچکاہے البتہ یہ شرط باقی رہے گی۔ اور اگر طلاق دیدی اور پھر یہ جملہ کہا کہ 'جب بھی میرا نکاح تم سے ہو تو تم مجھ پر طلاق ثلاثہ سے طلاق ہو' تو جب بھی اس سے نکاح کرے گا، اس پر تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ تاہم اس شرط سے بچنے کا ایک راستہ یہ ہے کہ کوئی فضولی بن کر نکاح کرادے اور یہ شخص اس نکاح کو بالفعل قبول کرے یعنی زبان سے کچھ بولے بغیر مہر کے پیسے عورت کے پاس بھیج دے تو اس طرح نکاح درست ہوجائے گا اور طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔

كل امرأة تدخل في نكاحي) أو تصير حلالًا لي (فكذا فأجار نكاح فضولي بالفعل لايحنث) بخلاف كل عبد يدخل في ملكي فهو حرّ فأجازه بالفعل حنث اتفاقًا؛ لكثرة أسباب الملك، عمادية.۔ ۔ قوله: (لايحنث) هذا أحد قولين قاله الفقيه أبو جعفر و نجم الدين النسفي، و الثاني أنه يحنث، و به قال شمس الأئمة و الإمام البزدوي و السيد أبو القاسم، و عليه مشى الشارح قبيل فصل المشيئة، لكن رجح المصنف في فتاواه الأول، و وجهه أن دخولها في نكاحه لايكون إلا بالتزويج فيكون ذكر الحكم ذكر سببه المختص به فيصير في التقدير كأنه قال: إن تزوجتها، و بتزويج الفضولي لايصير متزوجًا كما في فتاوى العلامة قاسم، قلت: قد يقال: إن له سببين: التزوج بنفسه و التزويج بلفظ الفضولي، و الثاني غير الأول بدليل أنه لايحنث به في حلفه لايتزوج، تأمل، قوله: (لكثرة أسباب الملك) فإنه يكون بالبيع والإرث والهبة والوصية وغيرها بخلاف النكاح كما علمت فلا فرق بين ذكره وعدمه." ((الدر المختار مع شرحه ردالمحتار 3/ 846، کتاب الأیمان،باب الیمین فی الضرب والقتل وغیر ذلک،مطلب قال كل امرأة تدخل في نكاحي فكذا، ط:سعید)

"(قوله: و كذا كل امرأة) أي إذا قال: كل امرأة أتزوجها طالق، والحيلة فيه ما في البحر من أنه يزوجه فضولي ويجيز بالفعل كسوق الواجب إليها." (الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 345)

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ:محمد اسعد

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند
answered Feb 22, 2023 by Darul Ifta
...