74 views
سوال نمبر ١ - اگر زید کی شادی ہوگئی ہے ، اور ایک دن اس سے شرک کا کام ہو گیا تو کیا اس کا نکاح ٹوٹ جائیگا -

سوال نمبر ٢ - اگر زید نے پہلی بار شرک کیا اور اس کا نکاح ٹوٹ گیا پھر اس نے تجدید ایمان اور تجدید نکاح کیا - اور اسی طرح پانچ بار ہو جائے کہ اس نے شرک کیا اور اس کا نکاح ٹوٹ گیا پھر اس نے تجدید ایمان اور تجدید نکاح کیا ، تو کیا اس کی بیوی کو تین طلاق ہو گئی ہے پانچ بار نکاح ٹوٹنے اور تجدید نکاح کرنے کہ وحہ سے ؟ یا پھر طلاق دینے سے ہی طلاق ہوتی ہے ؟
asked Feb 22, 2023 in طلاق و تفریق by ثاقب الأنصاري

1 Answer

Ref. No. 2288/44-3442

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔ شرکیہ کام کرنے یا شرکیہ کلمہ کہنے سے یقینا نکاح ٹوٹ جاتاہے۔ اور آدمی جتنی بار اور جب جب بھی شرک کرے گا اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا، اور اس پر تجدید ایمان اور تجدید نکاح لازم ہوگا۔ البتہ یہ نکاح ٹوٹنا طلاق کے حکم میں نہیں ہوگا بلکہ فسخ نکاح کے حکم میں ہوگا، اس لئے تین بار یا پانچ بار تجدید نکاح کرنے سے اس کی بیوی پر تین طلاق واقع نہیں ہوگی ۔

وارتداد أحدہما أي الزوجین فسخ فلا ینقص عدداً عاجل بلا قضاء الخ (درمختار مع الشامی: ۴/۳۶۶، ط:زکریا، والحیة الناجزة: ۲۰۸ تا ۲۱۲ جدید)

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered May 3, 2023 by Darul Ifta
...