7 views
پیر کے نام پر بچے کے بال نہ کٹوانا:
(۲۸)سوال:بعض ایسی جگہوں پر جہاں دینی تعلیم نہیں ہے وہاں پر لوگوں نے یہ دستور بنا رکھا ہے کہ بچوں کے سر کے بال نہیں کاٹتے اور کسی بزرگ کے نام پر بچوں کے سر پر چوٹی رکھتے ہیں اور پھر کچھ مدت کے بعد اس بچہ کو مزار پر لے جا کر خوشیاں مناتے ہیں اور تعلق داروں اور رشتہ داروں کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں اور مزار پر کھانا پکاکر کھلاتے ہیں یہ کیسا ہے؟
فقط: والسلام
المستفتی: محمد اکرام، سہارنپور
asked May 23 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:مذکورہ طریقہ غیر اسلامی ہے، اہل سنت والجماعت کے عقیدے اور طریقہ کے خلاف اور بدعت ہے، اسلامی طریقہ تو یہ ہے کہ ساتویں دن بچے کا عقیقہ کیا جائے یعنی اللہ کے نام پر قربانی بچے کی طرف سے کی جائے اور اس کے بال کٹواکر اس کے وزن کے مطابق چاندی غرباء پر تقسیم کی جائے اس کے علاوہ مذکورہ فعل مشرکانہ ہے جو بالکل بے اصل ہے طریقۂ سنت کو چھوڑ کر دوسرا طریقہ اختیار کرنا بدعت اور باعث گناہ ہے ایسی غلط باتوں اور رسموں سے ہر مسلمان پر پرہیز کرنا لازم ہے۔ (۱)

۱) وأما النذر الذي ینذرہ أکثر العوام علی ما ہو مشاہد کأن یکون لإنسان غائب أو مریض، أو لہ حاجۃ ضروریۃ فیأتي بعض الصلحاء فیجعل سترہ علی رأسہ فہذا النذر باطل بالإجماع۔ (ابن نجیم، البحر الرائق، ’’کتاب الصوم: باب ما یلزم الوفاء بہ‘‘: ج ۲، ص: ۶۹۳)
إن النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام وما یؤخذ من الدراہم والشمع والزیت ونحوہا إلی ضرائح الأولیاء الکرام تقرباً إلیہم فہو بالإجماع باطل۔ (ابن عابدین، الدر المختار مع رد المحتار، ’’کتاب الصوم: باب ما یفسد الصوم ومالا یفسدہ، مطلب في النذر الذي یقع للأموات من أکثر العوام‘‘: ج ۳، ص: ۴۲۷)

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص331
answered May 24 by Darul Ifta
...