78 views
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر امام چار رکعت والی نماز میں غلطی سے تیسری رکعت پر بیٹھ گیا پیچھے سے لقمہ دیا گیا تو امام دوبارہ تکبیر کہتے ہوئے کھڑا ہوگیا، تو کیا امام کو لقمہ ملنے بعد دوبارہ کھڑا ہونے کے لیے تکبیر کہنی چاہیے یا نہیں جبکہ امام ایک مرتبہ تکبیر کہہ کر بیٹھا تھا
asked Jun 1, 2023 in نماز / جمعہ و عیدین by Ahsan Qasmi

1 Answer

Ref. No. 2357/44-3555

بسم اللہ الرحمن الرحیم:۔     تکبیرات انتقالیہ مسنون ہیں،  اور سنت میں کمی یا زیادتی کراہت کا باعث ہے۔لقمہ ملنے پر امام کوقیام کے لئے  دوبارہ تکبیر نہیں کہنی چاہئے تھی، البتہ  مقتدیوں کی رعایت میں  چونکہ امام نے ایسا کیا ہے، اس لئے نماز درست ہوگئی۔

 (وجهر الامام بالتكبير) بقدر حاجته للاعلام بالدخول والانتقال”(شامی ج ۱ ص ۴۷۵/المکتبة الاسلامية)

ولایجب السجود إلا بترک واجب - إلی قولہ - ولا یجب بترک التعوذ وتکبیرات الانتقال إلا في تکبیرۃ رکوع الرکعۃ الثانیۃ من صلوۃ العید۔ (الفتاویٰ الہندیۃ : ۱/۱۲۶)

ترک السنۃ لا یوجب فسادا ولا سہوا بل إساءۃ لو عامدا ۔(الدر المختار، ۱/۳۱۸)

وثانی عشرہا التکبیرات التي یؤتی بہا فی خلال الصلاۃ عند الرکوع والسجود والرفع منہ والنہوض من السجود أو القعود إلی القیام وکذا التسمیع ونحوہ فہی مشتملۃٌ علی ست سنن کما تری۔ (بدائع الصنائع : ۱/۴۸۳)

"ویکبر مع الانحطاط، کذا في ”الهدایة“ قال الطحاوي: وهو الصحیح کذا في ”معراج الدرایة“ فیکون ابتداء تکبیرہ عند أول الخرور والفراغ عند الاستواء للرکوع کذا في المحیط". (الھندیۃ کتاب الصلوۃ1/ 131، ط: دار الکتب العلمیة )

وفي مجمع الأنہر: والتبکیر سنة کذا في أکثر الکتب / مجمع الأنہر ۱ص۱۴۹۔

واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء

دارالعلوم وقف دیوبند

 

answered Jun 7, 2023 by Darul Ifta
...