44 views
انتقال کے بعد ایصال ثواب کے لئے نفل اور تسبیح پڑھنے کی تاکید:
(۹۵)سوال:اگر کسی کے گھر میں انتقال ہوجاتا ہے تو تبلیغی جماعت والے حاضرین کو ایک ایک تسبیح پڑھنے کے لیے دے کر اور دو رکعت نفل نماز پڑھوا کر میت کے لیے دعاء مغفرت کرتے  ہیں اور حاضرین کا رجسٹر میں اندراج کرتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں؟
فقط: والسلام
المستفتی: مشیر احمد، بارہ بنکی
asked Jun 6, 2023 in اسلامی عقائد by azhad1

1 Answer

الجواب وباللّٰہ التوفیق:گاہے گاہے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ مقصد ایصال ثواب ہے، مگر اس کا التزام کرنا بدعت ہوجائے گا، اسی طرح ناموں کا رجسٹر میں اندراج کرنا یہ بیجا رسم اور لغو ہے اور دو رکعت نفل پڑھنے کے لئے کہنا یہ بھی رسم بنائی گئی ہے، کوئی شخص اپنی خوشی سے جس طرح چاہے عمل کرکے ایصال ثواب کرسکتا ہے، کچھ لوگ بیشتر مسائل سے ناواقف ہوتے ہیں؛ لہٰذا ان کو چاہئے کہ علماء و مفتیان کرام سے مسائل معلوم کرکے عمل کیا کریں۔(۱)

(۱) مردہ کو ثواب کھانے کا اور کلمہ، تہلیل اور قرآن کا پہونچانا ہر روز بغیر کسی تاریخ کے درست ہے مگر بہ قیودِ تاریخ معین کر کے کہ پش وپیش نہ کریں اور اس کو ضروری جانیں تو بدعت ہے اور ناجائز ہے، جس امر کو شریعت نے مطلق فرمایا ہے اپنی عقل سے اس میں قید لگانا حرام ہے۔ (تالیفات رشیدیہ، ’’کتاب البدعات‘‘: ص: ۱۵۲)
من أصر علی أمر مندوب وجعلہ عزماً ولم یعمل بالرخصۃ فقد أصاب منہ الشیطان من الاضلال فکیف من أصر علی بدعۃ أو منکر۔ (ملا علي قاري، مرقاۃ المفاتیح، ’’کتاب الصلاۃ: باب الدعاء في التشہد‘‘: ج ۳، ص: ۲۶، رقم: ۹۴۶)

فتاوی دارالعلوم وقف دیوبند ج1ص398

answered Jun 6, 2023 by Darul Ifta
...